رات 9 بجے سب کچھ بند ہوجائے گا! وفاقی حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں وفاقی حکومت نے سرکاری اور تجارتی سطح پر اخراجات کم کرنے کے لیے ایک جامع کفایت شعاری مہم کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ان نئے اقدامات کا بنیادی مقصد قومی وسائل کا درست استعمال اور توانائی کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔

کفایت شعاری مہم کا دورانیہ اور نمایاں نکات

موجودہ معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے نافذ کی جانے والی اس خصوصی مہم کی ابتدائی مدت تین ماہ مقرر کی گئی ہے جس کے دوران مختلف شعبوں میں درج ذیل پابندیوں اور ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

کاروباری مراکز اور تجارتی سرگرمیوں کے اوقاتِ کار

توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ملک بھر کے تجارتی اور تفریحی مقامات کے اوقاتِ کار میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے:

مارکیٹیں اور شاپنگ مالز: ملک بھر میں تمام دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز ہر روز رات 9 بجے بند کر دیے جائیں گے۔

شادی ہالز اور تقریبات: شادی کی تقریبات اور دیگر جملہ کمرشل سرگرمیاں رات 10 بجے تک ختم کرنا ہوں گی۔

ہوٹلز اور ریسٹورنٹس: تمام ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور کیفے رات 11 بجے بند کر دیے جائیں گے۔ تاہم، ریسٹورنٹس کی جانب سے ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی سہولت اس وقت کی قید سے مستثنیٰ ہوگی۔

شادیوں میں طعام کی حد: شادی بیاہ کی تقریبات میں مہمانوں کی تواضع کے لیے اب صرف ایک ڈش پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کن شعبوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا؟

عوام کی روزمرہ ضروریات اور ایمرجنسی خدمات کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مندرجہ ذیل اداروں اور کاروباروں کو اوقاتِ کار کی پابندیوں سے مکمل طور پر آزاد رکھا گیا ہے:

فارمیسی، طبی لیبارٹریز، کلینکس اور تمام اسپتال۔

تندور، بیکریاں، دودھ اور ڈیری شاپس۔

پیٹرول اور سی این جی پمپس کے ساتھ ساتھ الیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ اسٹیشنز۔

جم، کھیلوں کے مراکز، پیڈل کورٹس، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز۔

سرکاری امور اور دوروں پر سخت پابندیاں

قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے سرکاری سطح پر بھی کفایت شعاری کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں:

بیرون ملک سفر: اگلے تین ماہ کے لیے تمام غیر ضروری سرکاری دوروں اور بیرون ملک سفر پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ انتہائی ناگزیر صورتحال میں وزراء، مشیران اور سرکاری افسران صرف اکانومی کلاس میں سفر کرنے کے پابند ہوں گے۔

آن لائن اجلاس: تمام سرکاری میٹنگز کو ترجیحی بنیادوں پر روایتی طریقہ کار کے بجائے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عشائیے اور سیمینارز: سرکاری خرچ پر کسی بھی قسم کے عشائیوں، سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کی میزبانی پر پابندی ہوگی۔ البتہ غیر ملکی معزز وفود کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اگر کوئی سرکاری تقریب ناگزیر ہو تو اس کے لیے صرف سرکاری آڈیٹوریم یا کمیٹی رومز استعمال کیے جائیں گے۔

آئی ٹی سامان: آئی ٹی سے متعلقہ ضروری آلات کی خریداری کو چھوڑ کر باقی تمام پائیدار اور لگژری اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

سرکاری گاڑیوں اور ایندھن میں کٹوتی

سرکاری فلیٹ کی 50 فیصد گاڑیاں گراؤنڈ (استعمال بند) کر دی جائیں گی۔

سرکاری گاڑیوں کے لیے مختص ماہانہ ایندھن کی فراہمی میں بھی نصف (50 فیصد) کمی کر دی گئی ہے۔

اس کٹوتی سے آرمڈ فورسز، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آپریشنل گاڑیوں اور دیگر ضروری خدمات کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

بجٹ میں کٹوتی اور نئی گاڑیوں پر پابندی

مالی سال 27-2026 کے نان ای آر ای (Non-ERE) بجٹ میں 5 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، تمام محکموں میں ہر قسم کی نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

صوبائی حکومتوں کے لیے ہدایات اور استثنیٰ کا طریقہ کار

صوبائی سطح پر عمل درآمد: وفاقی حکومت کے یہ اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ صوبائی اور علاقائی حکومتیں بھی اپنے ہاں اسی نہج پر کفایت شعاری کے اصول نافذ کرنے پر غور کر سکتی ہیں۔

استثنیٰ کے لیے کمیٹی: ان قواعد و ضوابط سے استثنیٰ حاصل کرنے کی درخواستوں کا جائزہ انفرادی (کیس ٹو کیس) بنیادوں پر لیا جائے گا۔ کسی بھی شعبے یا معاملے میں استثنیٰ کی منظوری کے لیے ایک خصوصی کمیٹی اپنی سفارشات براہِ راست وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

Related Posts