بے مثال مہارت اور عوامی حفاظت کا درخشاں باب

تازہ ترین

تازہ ترین

آج ایک ایسے مایہ ناز ادارے میں جانے کا موقع ملا جسے سندھ پولیس سکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کی تخلیق کا سہرا ایک ایسی نابغہ روزگار شخصیت کے سر جاتا ہےجسے ہم ڈاکٹر مقصود احمد میمن کے نام سے جانتے ہیں ، جنہوں نے ایس ایس یو کی بنیاد رکھی اور اس کو ایک ایسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈویژن میں تبدیل کیا جس کے آج 6 ذیلی ادارے ہیں۔

یوں تو اس ملک میں بہت سے مایہ ناز اور مؤقر ادارے ہیں جو اپنے اپنے شعبے میں اعلیٰ پائے کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن یہ وہ ادارہ ہے جس کا میں بڑی آسانی کے ساتھ ان 11 ممالک کے اداروں سے موازنہ کرسکتا ہوں جہاں میں نے مختلف مواقع پر اقوام متحدہ میں رہتے ہوئے یا پھر پاکستان کیلئے بطور سفارت کار خدمات سرانجام دیتے ہوئے سربراہی کی۔ میں بھرپور یقین اور پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان ممالک میں اس سطح ، معیار اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ادارہ دیکھنے کو نہیں ملتا جو ہر لحاظ سے معیاری اور قابل قدر خدمات سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو ، کیونکہ سندھ پولیس کے جدید اور خصوصی یونٹس میں سکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن کراچی کی اہم ترین آپریشنل فورسز میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دہشت گردی، ہنگامی حالات، وی آئی پی سیکیورٹی، حساس تنصیبات کی حفاظت اور شہریوں کو پولیس کی جانب سے فوری و ہنگامی امداد فراہم کرنا ہے۔ یہ ڈویژن نومبر 2019 میں سندھ حکومت کے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے قائم کیا گیا تاکہ مختلف سیکیورٹی اور ایمرجنسی یونٹس کو ایک کمانڈ کے تحت لا کر ان کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔یہ ادارہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کے انتظامی و آپریشنل کنٹرول میں کام کرتا ہے، جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے۔

جدید سہولیات کی بات کی جائے تو سکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن کے مختلف یونٹس کو بکتر بند گاڑیاں، جدید اسالٹ رائفلز، اسنائپر رائفلز، نائٹ ویژن آلات، بلٹ پروف جیکٹس، ہیلمٹس، وائرلیس کمیونیکیشن، جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور تیزرفتار رسپانس گاڑیوں جیسی سہولیات مہیا کی گئی ہیں تاکہ وہ حکام بالا کی جانب سے دئیے گئے فرائض کو بخوبی نبھا سکیں۔

تعیناتی کی بات کی جائے تو اس ڈویژن کے تحت کام کرنے والے افسران اور خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کو کراچی ائیرپورٹ، غیر ملکی قونصل خانوں، حساس سرکاری عمارات، وی آئی پی روٹس، بین الاقوامی کانفرنسز، کرکٹ اور دیگر بڑے کھیلوں کے مقابلوں، مذہبی اجتماعات اور سیاسی جلسوں کی سکیورٹی پر مامور کیاجاتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ڈویژن کتنی اہم ترین اور حساس ذمہ داریوں کی انجام دہی کا اہل ہے۔

کون کہتا ہے کہ پاکستان میں وہ صلاحیتیں اور ٹیلنٹ نہیں ہے، جس کی آج دنیا کو ضرورت ہے اور خاص طور پر سکیورٹی کے میدان میں اس ملک خداداد میں ڈاکٹر مقصود احمد میمن جیسے پولیس کے دانشور موجود ہیں جنہوں نے پولیس میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم کو بام عروج تک پہنچایا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی اور اس کے ساتھ ساتھ پولیس کے محکمے میں ان تصورات کی داغ بیل ڈالی ، جن کے تحت پولیس کی تعلیم و تربیت کو ایک نیا رخ دیا گیا اور اس نئے رخ کی بنیاد رکھنے کیلئے اسی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر مقصود احمد میمن نے ایک ہینڈ بک متعارف کرائی جو کسی جامع مجموعے سے کم نہیں اور جس کا نام ہینڈ بک والیم 1فور سکیورٹی ٹریننگ ہے، جس میں پولیس کی ماڈرنائزیشن اور ساتھ ساتھ جدید دور کی جاری تعمیر و ترقی کے ہمراہ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو ری ایکٹو پولیسنگ سے پرو ایکٹو پولیسنگ تک لانے میں ٹیکنالوجی کا بھی سنگم دیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ بارودی سرنگوں، آئی ای ڈی اور حساس بلڈنگز اور ہماری حساس تنصیبات اور ان کی حفاظت، وی آئی پیز کیلئے کس قسم کا باڈی گارڈز کا انتظام، اور تو اور غیر مہلک ہتھیاروں سے کس طرح ہجوم کو یا متعلقہ معاملات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ آفات کی انتظام کاری جسے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کہا جاتا ہے، اس کیلئے بھی تربیت کا ایک سلسلہ جاری رکھا۔

اگر سکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک والیم ون کی مزید بات کی جائے تو اس میں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے قیام، ذمہ داریوں اور جدید سیکیورٹی نظام میں اس کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ مصنف نے پیشہ ورانہ اصولوں اور عملی تقاضوں کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے، جو ہر سیکیورٹی اہلکار کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔جدید سیکیورٹی میں غیر مہلک ہتھیاروں کے بدلتے ہوئے کردار کے عنوان سے ایسے ہتھیاروں کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے جو جان لیوا طاقت کے استعمال کے بغیر حالات پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں ان وسائل کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کی افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایمرجنسی سروسز رسپانس کے تحت ہنگامی حالات میں فوری، منظم اور مربوط ردعمل کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی کامیابی کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہ باب مؤثر رابطہ کاری، بروقت کارروائی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے بنیادی اصولوں کی وضاحت کرتا ہے۔اس کے علاوہ ایمرجنسی رسپانس ٹائم لائن کی اہمیت بھی بتائی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی واقعے میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے، اور بروقت فیصلے نقصان کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ قدرتی آفات سے نمٹنے اور ایس ایس یو کے بنیادی اقدامات کے عنوان سے یہ آگہی دی گئی ہے کہ قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کا تحفظ اور فوری امدادی کارروائیاں خصوصی تربیت اور مؤثر منصوبہ بندی کی متقاضی ہوتی ہیں۔ یہ باب ایس ایس یو کے کردار اور ایسے مواقع پر اختیار کیے جانے والے بنیادی عملی اقدامات کی جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی آپریشنزکے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اعلیٰ تربیت، درست حکمت عملی اور غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کا تقاضا کرتی ہیں۔ اس باب میں ایسے آپریشنز کے بنیادی اصولوں اور سیکیورٹی فورسز کی عملی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔سائبر سیکیورٹی بھی اس کتاب کا ایک اہم عنوان ہے کیونکہ ڈیجیٹل دور میں سیکیورٹی کے خطرات صرف حقیقی دنیا تک محدود نہیں رہے بلکہ سائبر دنیا بھی ایک اہم محاذ بن چکی ہے۔ یہ باب معلوماتی نظام، حساس ڈیٹا اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جدید سائبر خطرات سے نمٹنے کی بنیادی آگاہی فراہم کرتا ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ حقیقت بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آج کی تقریب جس میں مجھے شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، وہاں یہ دیکھ کر وطن عزیز کے ان سپوتوں پر مزید بھروسہ بڑھ گیا اور یہ بھی محسوس ہوا کہ:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اور ساتھ ہی آج اس فلسفے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ایک اچھے ادارے کو چلانے کیلئے ایک اچھا ذہن اور اچھے جسم کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسی سکیورٹی ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر مقصود احمد میمن نے سکیورٹی ڈویژن میں ایک ایسا سپورٹس ایرینا قائم کیا جس میں کھیلوں کے انتظام و انصرام، تن سازی اور مختلف قسم کی قسم کا اہتمام کیا گیا جو کہ پولیس میں انتہائی نایاب ہے ۔ اس موقعے پر ایک پرانے پولیس آفیسر کی حیثیت سے یہ دیکھ کر بھی انتہائی مسرت ہوئی کہ وہاں سفارت کار بھی موجود تھے جنہوں نے اس بات کی ستائش کی اور بتایا کہ کئی ممالک میں اس سطح اور نوعیت کا ادارہ راقم الحروف کی طرح انہوں نے بھی نہیں دیکھا جو کہ انہوں نے بریفنگ کے دوران نوٹ کیا تھا۔

میرے ہم وطنوں کیلئے ایک اچھی خوشخبری اور بھروسے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ایسے ادارے جو دہشت گردی اور جرائم کو کنٹرول کرنے میں پیش پیش ہیں، وہ دنیا کی جدید ترین تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں اور ان کا قلع قمع کرتے ہیں۔

آخر میں سندھ پولیس کے سربراہ جاوید عالم اوڈھو کی بھی ستائش کرتا ہوں جن کی سربراہی میں یہ ادارے دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں اور سکیورٹی و ایمرجنسی ڈویژن کے روح رواں مقصود احمد میمن کی ان کوششو ں اور کاوشوں تاریخ ساز ہیں جو کہ نہ صرف پولیس کیلئے تاریخ رقم کر رہی ہیں بلکہ کئی اعتبار سے معاشرے کو بھی امن و امان، صحت افزا ماحول پیدا کرنے کی بھی بنیاد بن رہی ہیں۔

Related Posts