آبنائے ہرمز سے باب المندب تک : موت کا رقص کب تک؟

تازہ ترین

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسی خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے جہاں سفارتی بیانات، عسکری کارروائیاں اور معاشی دباؤ ایک دوسرے میں اس طرح گڈمڈ ہو رہے ہیں کہ پورے خطے کا توازن داؤ پر لگا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جن ممالک کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ محتاط خاموشی اختیار کیے رکھیں گے، اب وہ بھی امریکا تک اپنے تحفظات پہنچا رہے ہیں۔

اسرائیل اور امریکا کی جنگ پر ایران اپنے مؤقف پر بدستور قائم ہے  کہ جب تک امریکی حملے جاری رہیں گے، بامعنی مذاکرات کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ دوسری جانب امریکا مسلسل فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکی قیادت کے مختلف بیانات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا اور اگر انا کو چھوڑ کر حالات کا ادراک ہوجائے تو سفارتی راستہ دوبارہ کھل سکتا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت میں امریکا نے مسلسل بارہویں رات بھی ایران کے مختلف فوجی اہداف پر حملے کیے، جن میں میزائل اور ڈرون ذخائر، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات شامل تھیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق خوزستان، بوشہر، جاسک اور آبنائے ہرمز سے متصل کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ بعض مقامات پر جانی نقصان اور بنیادی انفراسٹرکچر  کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے جواب میں ایرانی  پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جن میں پیٹریاٹ دفاعی نظام، ریڈار، ڈرون ہینگرز اور دیگر فوجی سہولیات شامل ہیں، جس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جنگ کا دائرہ اپنے آغاز ہی سے صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا خطہ تاحال جنگ کی آگ میں جل رہا ہے۔

اسی دوران آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے عالمی توانائی منڈیوں میں نئی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے مکمل کنٹرول میں ہے اور امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو تیل کی نقل و حمل مزید متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ یمنی حوثیوں نے بھی دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جو پاکستان کیلئے بھی کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں کیونکہ ایک جانب تو پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسادفاعی پیکٹ ہے جس کی موجودگی میں سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہوگا جبکہ دوسری جانب  دنیا کی ایک بڑی بحری گزرگاہ میں اس قسم کی کشیدگی صرف خلیجی ریاستوں ہی نہیں بلکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان  کیلئے بھی شدید معاشی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ملکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت انتہائی محتاط سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسا توازن قائم رکھنے کی کوشش میں ہے جس کے نتیجے میں نہ خطے میں مزید کشیدگی بڑھے اور نہ پاکستان کسی ایسے امتحا ن میں پڑے کہ اسے تصادم کا حصہ بننا پڑ جائے ۔ اس تناظر میں یہ خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بعض قوتیں چاہتی ہیں کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات میں الجھ جائیں تاکہ اصل تنازعے کا رخ تبدیل ہو جائے، جن میں ایران پر حملوں کا آغاز کرنے والی اسرائیلی نیتن یاہو حکومت پیش پیش ہے۔

امریکا کے اندر بھی جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور فوجی نقصانات پر بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات نے امریکی صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھایا ہے، جبکہ کانگریس کی جانب سے امریکی دفاعی بجٹ  996 ارب روپے سے 1.15کھرب تک پہنچانے کیلئے دی گئی منظوری بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی توجہ کا بڑا حصہ خلیج کی طرف منتقل ہونے سے بحرالکاہل اور جنوبی بحیرۂ چین میں طاقت کے توازن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے چین کو تزویراتی گنجائش ملنا ایک قدرتی امر ہے، چین کو بھلا کیا اعتراض کہ اگر امریکی بحری بیڑے اور سازوسامان ساؤتھ چائنا سی کے قریب سے منتقل کرکے خلیج فارس میں لایا جائے تاکہ چین کو لاحق خدشات میں کمی ہوسکے۔

بلاشبہ ایران کیلئے  بھی یہ جنگ آسان نہیں۔ امریکی حملوں سے بنیادی انفراسٹرکچر، توانائی کے نظام اور معیشت پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ مہنگائی، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود ایرانی حکومت یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگر اس کی سلامتی یا انفراسٹرکچر کو مزید نشانہ بنایا گیا تو پورے خطے کا بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا، جس سے تباہی کا ایک طوفان آسکتا ہے اور جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایسی صورت میں ایران اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں تیزی لاسکتاہے۔ ایسے بیانات اس خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر جنگ مزید پھیلی تو پانی صاف کرنے والے پلانٹس، بجلی گھروں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات تک اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہیں، جس سے ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔واضح رہے کہ  پانی جیسی زندگی کی بنیادی ضرورت کیلئے خلیجی ریاستوں کا 90فیصد انحصار ڈی سیلینیشن پلانٹس پر ہے جن کی تباہی کے بعد لوگ پیاسے مرنا شروع ہوجائیں گے۔

موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اگرچہ میدانِ جنگ میں شدت بڑھ رہی ہے، مگر سفارتی امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ایران اب بھی اپنی خودمختاری کے احترام کو مذاکرات کی بنیادی شرط قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی مختلف مواقع پر ایسے اشارے دئیے جاتے رہے ہیں اور اب بھی دئیے جارہے ہیں کہ بات چیت کا دروازہ تاحال کھلا ہے، اگرچہ دونوں فریق ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اوریہی تضاد اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس سوال پر مرکوز ہیں کہ آیا طاقت کے اس خطرناک کھیل کا اختتام مذاکرات پر ہوگا یا پھر مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی وسیع جنگ میں داخل ہو جائے گا جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی رسد اور بین الاقوامی امن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ضروری ہے کہ فریقین گزشتہ 12 روز سے جاری آگ اور خون کے اس کھیل سے باز آئیں اور پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کا کوئی قابل عمل حل نکالیں، تاکہ دنیا کو اس تباہی سے بچایا جاسکے جو پہلے ہی ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے کر زندگی سے محروم اور لاکھوں کو بے گھر کرچکی ہے ، اور یہ بھی ضروری ہے کہ عقل و دانش کا راستہ اختیار کرتے ہوئے جنگ کے بجائے امن کو موقع دیا جائے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

Related Posts