پاکستان اس وقت عالمی سفارت کاری میں ایک اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مفاہمتی عمل میں پاکستان کی ثالثی کی کاوشوں کو نمایاں حیثیت حاصل ہوئی۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے کی حتمی شکل جلد سامنے آ سکتی ہے اور دونوں ممالک جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہ رہے ہیں ، جس کے سبب نہ صرف پاکستان کی سفارتی کاوشیں عالمی توجہ کا مرکز بنیں بلکہ پاکستان کو ایک مڈل پاور اور نیٹ سکیورٹی اسٹیبلائزر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایرانی عوام آخری فتح تک ثابت قدم رہیں گے، جبکہ صدر مسعود پزشکیان کے مطابق گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کے دوران ایران کو کمزور کرنے کے مقاصد ناکام رہے اور قومی اتحاد نے مخالف فریق کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سالگرہ کے روز سوشل میڈیا پر انوکھا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر دستخط اتوار کے روز ہوں گے اور آبنائے ہرمز فوری طور پر تمام جہازوں کے لیے کھول دی جائے گی۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ معاہدے پر دستخط کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، اگرچہ آئندہ چند دنوں میں ایسا ہونے کا امکان موجود ہے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کہا تھا کہ معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع آئندہ 24 گھنٹوں میں ہے اور اس پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط کیے جائیں گے، اس طریقہ کار کی مزید تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں، تاہم واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے سرکاری شیڈول میں کسی ورچوئل تقریب کا ذکر موجود نہیں، اگرچہ بعد میں ایسی تقریب شامل کیے جانے کا امکان برقرار ہے۔تہران سے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایران ابھی تک مفاہمتی یادداشت کے مسودے کا جائزہ لے رہا ہے اور حکام کی جانب سے حتمی منظوری کا اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے افزودہ جوہری مواد کو ہٹانے کی شق شامل ہوگی۔
پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ اس نے کسی ایک فریق کی کھلی حمایت کے بجائے متوازن مؤقف اختیار کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری رابطوں میں پاکستان کا نام ایک ایسے ثالث کے طور پر سامنے آیا جو فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ مفاہمتی دستاویز کی تمام تفصیلات اور تکنیکی معاملات سرکاری طور پر منظر عام پر نہیں آئے، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق مجوزہ معاہدے کے پہلے فیز میں کشیدگی کم کرنے، مختلف محاذوں پر دشمنی کے خاتمے ، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور 60 روز کی مزید مہلت کے ساتھ دوسرے مرحلے کے باقی معاملات کو طے کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
پاکستان کے سفارتی کردار کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی رسد کا ایک نہایت حساس راستہ ہے اور یہاں کشیدگی کا سلسلہ برقرار ہنے کی صورت میں عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور معاشی استحکام بری طرح متاثر ہوسکتا ہے، جیسا کہ عالمی برادری پہلے ہی اس کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہے۔ اسی تناظر میں امن کی جانب پیش رفت کو نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
تشویشناک طور پر خطے میں تاحال پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا کیونکہ نہ صرف امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز بھیجے اور امریکی افواج نے انہیں مار گرانے کا دعویٰ کیا بلکہ لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں، جن میں مختلف علاقوں میں متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں اورحزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہی نہیں بلکہ جنگ بندی مذاکرات اور امن کے عمل کو اب بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ایران نے معاہدے کے مسودے کا جائزہ جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق تحفظات برقرار ہیں اور وہاں بعض سیاسی حلقوں نے مجوزہ مفاہمت پر شدید تنقید بھی کی ۔ امریکا کے اندر بھی بعض ڈیموکریٹ رہنماؤں نے مجوزہ معاہدے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور یہاں تک کہا ہے کہ یہ معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے اور ایک رہنما کے بیان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ جس آبنائے ہرمز کو کھولے جانےکو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہ تو جنگ سے قبل ہی کھلی ہوئی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سفارتی عمل کو خود امریکا میں بھی مکمل اتفاق رائے حاصل نہیں، لیکن اس کے باوجود امن کی توقعات تاحال برقرار ہیں کیونکہ اگر تمام تر تنقید اور بحث و مباحثے کے باوجود اگر ایران اور امریکا کے مابین ابتدائی مفاہمتی یادداشت طے پا جاتی ہے تو اسے مستقبل کے مزید جامع معاہدوں کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔
اگر ایران امریکا جنگ بندی کا مشن کامیاب ہوجاتا ہے ، جس کی قوی امید ہے، تو اس کے بعد پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ اس بڑھتے ہوئے سفارتی وقار کو معاشی فوائد میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ بین الاقوامی سطح پر بہتر ساکھ غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارتی تعاون اور دفاعی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، لیکن ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے داخلی اصلاحات، کاروباری ماحول میں بہتری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی استحکام سے جوڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پیش رفت نہ صرف اس کی عالمی حیثیت کو مزید مضبوط کرے گی بلکہ ملکی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

