بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ممبئی کرائم برانچ کے ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر فائرنگ میں ملوث ملزمان نے واردات سے پہلے امیتابھ بچن، سلمان خان، عامر خان اور اکشے کمار سمیت متعدد معروف فلمی شخصیات کی رہائش گاہوں کی نگرانی اور ریکی کی تھی۔
تحقیقاتی ذرائع کو شبہ ہے کہ ملزمان کو ایسے اداکاروں کی نشاندہی کرنے کا کہا گیا تھا جن کی سیکیورٹی نسبتاً کم سخت تھی۔ پولیس کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر ممبئی میں آٹو رکشوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں جاتے اور ڈرائیوروں سے معروف اداکاروں کے گھروں تک لے جانے کو کہتے تھے۔ اس دوران وہ گھروں کی تصاویر بنانے کا بہانہ بھی کرتے تھے۔
آٹو رکشہ ڈرائیور سے ٹائیگر شروف کی سرگرمیوں کا سراغ ملا
ذرائع کے مطابق ریکی کے دوران ایک آٹو رکشہ ڈرائیور نے مبینہ طور پر ملزمان کو بتایا کہ اداکار جیکی شیروف کے بیٹے ٹائیگر شیروف ہر اتوار ممبئی کے علاقے جوہو میں واقع ایک فٹ بال گراؤنڈ میں کھیلنے آتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ملزمان 11 اکتوبر کو مذکورہ گراؤنڈ پہنچے تاہم اس روز ٹائیگر شیروف وہاں موجود نہیں تھے بعدازاں 18 اکتوبر کو وہ مبینہ طور پر اسلحے کے ساتھ دوبارہ وہاں پہنچے اور اداکار کی گاڑی پر فائرنگ کر دی تاہم ٹائیگر محفوظ رہے اور انہیں نقصان نہیں پہنچا۔
سوشل میڈیا کے ذریعے اداکار کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا شبہ
تحقیقاتی حکام کو شبہ ہے کہ ملزمان نے ٹائیگر شروف کی نقل و حرکت اور سیکیورٹی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں کی شیئر کردہ ریلز اور ویڈیوز کا جائزہ لیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر یہ اندازہ لگایا کہ اداکار کو اس وقت پولیس سیکیورٹی حاصل نہیں تھی جس کے بعد انہیں نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
20 اکتوبر کو ملزمان سے ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر تفتیش کار اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ ٹائیگر شروف حملہ آوروں کا اصل ہدف نہیں تھے اور فائرنگ کا مقصد بالی ووڈ میں خوف و ہراس پھیلانا تھا تاہم حملے کے اصل محرکات کی حتمی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی مبینہ پوسٹ
فائرنگ کے واقعے کے چند گھنٹوں بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
اس پوسٹ کی صداقت اور واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے کسی منظم گروہ سے تعلق سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔
واردات میں استعمال ہونے والے اسلحے کی تلاش جاری
تفتیشی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے دوران دو پستول استعمال کیے گئے جن میں ایک غیر ملکی ساختہ جبکہ دوسرا دیسی ساختہ بتایا جاتا ہے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر ممبئی سے روانگی کے دوران دونوں ہتھیار کسی نامعلوم مقام پر پھینک دیے تھے۔
ممبئی کرائم برانچ اب ان ہتھیاروں کی تلاش میں مصروف ہے کیونکہ ان کی برآمدگی مقدمے میں اہم شواہد فراہم کرسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمان کو مبینہ طور پر غیر ملکی ساختہ پستول کے بارے میں محدود معلومات حاصل تھیں۔
پولیس حکام فائرنگ سے پہلے اور بعد میں ملزمان کی نقل و حرکت کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل ترتیب واضح کی جا سکے اور ممکنہ طور پر اس منصوبے میں شامل دیگر افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔
ہریانہ سے ممبئی آنے والے دیگر افراد بھی زیرِ تفتیش
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران کچھ دیگر افراد بھی ہریانہ سے ممبئی آئے تھے۔ ان افراد نے مبینہ طور پر مختلف مقامات کی ریکی کی اور بعدازاں واپس ہریانہ چلے گئے تاہم اس معاملے میں ان کے کردار اور فائرنگ کے واقعے سے ممکنہ تعلق کی تاحال واضح تصدیق نہیں ہو سکی۔
تفتیش کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ملزمان نے معروف اداکاروں کی رہائش گاہوں، روزمرہ معمولات اور سیکیورٹی انتظامات سے متعلق معلومات کیسے حاصل کیں۔
بالی ووڈ شخصیات میں تشویش، سیکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے
ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد فلمی صنعت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ امال ملک، میکا سنگھ، ودیوت جاموال، شتروگھن سنہا اور روی کشن سمیت متعدد شخصیات نے واقعے کے بعد اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ اس حملے کا مقصد کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ فلمی صنعت سے وابستہ دیگر افراد میں بھی خوف پیدا کرنا ہو سکتا ہے تاہم کسی وسیع تر منصوبے کے وجود اور اس کے ممکنہ دائرۂ کار سے متعلق حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
ممبئی کرائم برانچ ملزمان سے پوچھ گچھ، مبینہ طور پر ضائع کیے گئے اسلحے کی تلاش اور بالی ووڈ شخصیات کے گھروں کی ریکی سے متعلق شواہد کی جانچ جاری رکھے ہوئے ہے۔ پولیس نے تاحال عوامی طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ جن دیگر اداکاروں کی رہائش گاہوں کی مبینہ نگرانی کی گئی آیا وہ بھی حملہ آوروں کے ممکنہ اہداف میں شامل تھے یا نہیں۔
اس واقعے نے ممبئی میں معروف شخصیات کی سیکیورٹی اور سوشل میڈیا پر معمولات زندگی سے متعلق معلومات شیئر کرنے کے ممکنہ خطرات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








