فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کو صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال اور تحفظ سے متعلق گمراہ کن بیانات دینے پر امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت نے 25 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا جو کمپنی کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی سزا قرار دی جا رہی ہے۔
دو ہفتوں کی عدالتی کارروائی کے بعد جیوری نے قرار دیا کہ میٹا نے برسوں تک فیس بک صارفین کی معلومات کے استعمال اور تحفظ کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا۔ جج فرانسس میتھیو کے مطابق خلاف ورزیوں کا سلسلہ 2010 سے 2021 تک جاری رہا اور کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں، بشمول مارک زکربرگ، کی بات چیت بھی اس معاملے کا حصہ تھی۔
میٹا کا اپیل کرنے کا اعلان
کمپنی کے وکیل سی جے مہونی نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نیو میکسیکو میں کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ میٹا نے الزامات مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مقدمے کا مقصد آن لائن اظہارِ رائے پر نئی پابندیاں عائد کرنا ہے۔ کمپنی نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ریاستی حکام نے 40 ارب ڈالر تک جرمانے کی درخواست کی تھی، جبکہ میٹا کا مؤقف تھا کہ 3.4 ارب ڈالر سے زیادہ کی سزا غیر آئینی ہوگی۔ عدالت نے خلاف ورزیوں کی بنیاد پر ممکنہ جرمانے کا تخمینہ 219 ارب ڈالر لگایا تاہم اسے کم کرکے 25 ارب ڈالر مقرر کیا۔ جیوری کے مطابق کمپنی نے ریاستی قوانین کی 4 کروڑ سے زیادہ مرتبہ خلاف ورزی کی جس سے نیو میکسیکو کی تقریباً 20 لاکھ آبادی متاثر ہوئی۔
کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل بھی مقدمے کی بنیاد
مقدمے کا تعلق فیس بک کے مشہور کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے بھی تھا جس میں لاکھوں صارفین کی معلومات سیاسی مشاورت اور انتخابی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ ان سرگرمیوں میں 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات سے متعلق کام بھی شامل تھا، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ پہلی مرتبہ صدر منتخب ہوئے۔
حکام نے میٹا پر نفرت انگیز مواد سے متعلق پالیسیوں اور ان پر عمل درآمد کے بارے میں بھی عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ اس سے قبل 2019 میں امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن فیس بک پر ڈیٹا پرائیویسی کے معاملے میں 5 ارب ڈالر جرمانہ عائد کر چکا ہے۔ نیو میکسیکو میں بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق مقدمات نے بھی کمپنی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








