کورونا وبا بدترین ہونے کا امکان باقی ہے، بل گیٹس نے خبردار کردیا

کورونا وبا بدترین ہونے کا امکان باقی ہے، بل گیٹس نے خبردار کردیا

نیو یارک: دنیا کی امیر ترین شخصیت بل گیٹس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لوگ کورونا وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے سے تھک چکے ہیں مگر ابھی بھی مشکل دنوں کا سامنا ہوسکتا ہے، بل گیٹس نے اس حوالے سے خبردار کردیا۔

بل گیٹس نے ایک انٹرویو کے دوران خبردار کیا کہ دنیا کو ابھی بھی کورونا کی وبا کے بدترین اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔یہ خطرہ ابھی باقی ہے کہ کورونا کی ایک ایسی نئی قسم سامنے آجائے جو زیادہ متعدی اور زیادہ جان لیوا ہو۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایک اور وبا کے لیے گلوبل ایپیڈیمک ریسپانس اینڈ موبلائزیشن اینشیٹیو (جی ای آر ایم) کے ذریعے تیار ہونا چاہیے جس کا انتظام عالمی ادارہ صحت سنبھالے۔دنیا بھر کے ممالک اگر واقعی مستقبل کی وباؤں کو روکنا چاہتے ہیں تو ان کو اس حوالے سے زیادہ سرمایہ لگانا چاہیے۔

بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو ڈرانا نہیں چاہتے مگر ابھی بھی یہ خطرہ 5 فیصد سے زیادہ ہے کہ کورونا کی وبا اتنی بدترین ہوجائے جو ابھی تک ہم نے نہیں دیکھی۔

انہوں نے تجویز دی کہ جی ای آر ایم میں وبائی امراض سے لے کر کمپیوٹر ماڈیولر ماہرین کو شامل کیا جائے جو عالمی سطح پر طبی خطرات کو شناخت اور ممالک کے درمیان رابطہ کرسکیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں کورونا کے 30 نئے کیسز رپورٹ، 101 مریضوں کی حالت تشویشناک

واضح رہے کہ اپریل 2022 میں ٹیڈ کانفرنس کے بل گیٹس نے جی ای آر ایم کا خیال پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کو اس کے لیے ہر سال ایک ارب ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔ 

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں