نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک سے زائد زبانیں بولنے والے افراد کا دماغ ان کی اصل عمر کے مقابلے میں نسبتاً کم عمر دکھائی دے سکتا ہے۔
یورپی فیڈریشن آف نیورو سائنس سوسائٹیز (FENS) کے فورم میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق کثیر لسانی افراد میں دماغی عمر بڑھنے کا عمل نسبتاً سست ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جنہوں نے دوسری زبان کم عمری میں سیکھی اور اس پر عبور حاصل کیا۔
تحقیق اسپین کے باسک سینٹر فار کاگنیشن، برین اینڈ لینگویج کی ڈاکٹر لوسیا اموروسو کی سربراہی میں کی گئی، جس میں چلی، ارجنٹائن اور آئرلینڈ کے محققین نے بھی حصہ لیا۔
محققین نے اسپین کے باسک خطے کے رہائشیوں کا جائزہ لیا جہاں لوگ ہسپانوی، باسکی، فرانسیسی اور انگریزی سمیت ایک سے زائد زبانیں استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق کے دوران میگنیٹو اینسیفالوگرافی (MEG) ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے دماغی سرگرمی کا تجزیہ کیا گیا اور دماغی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے ایک خصوصی “برین ایج کلاک” تیار کی گئی۔
نتائج کے مطابق دو زبانیں بولنے والے افراد کا دماغ صرف ایک زبان بولنے والوں کے مقابلے میں تقریباً 6 سال کم عمر نظر آیا، جبکہ تین زبانیں بولنے والوں میں یہ فرق تقریباً 7 سال اور چار زبانیں بولنے والوں میں تقریباً 13 سال تک پہنچ گیا۔
محققین کے مطابق صرف زبانوں کی تعداد ہی اہم نہیں بلکہ زبان سیکھنے کی عمر، مسلسل استعمال اور مہارت بھی دماغی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ڈاکٹر لوسیا اموروسو کا کہنا ہے کہ متعدد زبانیں استعمال کرنے والے افراد کے دماغ اپنی حقیقی عمر کے مقابلے میں توقع سے زیادہ جوان دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرین اب مزید تحقیق کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا کثیر لسانی ہونے کے یہ فوائد الزائمر اور دیگر دماغی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








