چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت یا اس کے حق میں ووٹ دینے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس معاملے پر پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نہ تو کوئی گفتگو ہوئی اور نہ ہی یہ ایجنڈے میں شامل تھا۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کے بقول عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ 100 سال تک جیل میں رہنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز اور سفارشات دونوں قائدینِ حزب اختلاف کو ارسال کی جائیں گی۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ اس تصور کے حامی ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ عوام کی خواہشات اور مرضی کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب نجی ٹی وی گفتگو میں تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 28ویں آئینی ترمیم کا معاملہ زیرِ بحث آیا تھا۔
بیرسٹر علی ظفر کے مطابق اجلاس میں بعض ارکان نے رائے دی کہ اگر اس ترمیم پر غور کرنے سے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی پیش رفت یا ریلیف مل سکتا ہے تو اس امکان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








