پاکستانی نژاد شہری کا اعزاز، زاہد قریشی امریکا میں پہلے مسلمان وفاقی جج مقرر

پاکستانی نژاد امریکی شہری کا اعزاز، سینیٹ نے پہلے مسلمان جج کی تعیناتی منظور کرلی

واسنگٹن: امریکی سینیٹ نے صدر جو بائیڈن کی جانب سے نیو جرسی میں مجسٹریٹ جج زاہد قریشی کی وفاقی بنچ کے لئے نامزدگی کی منظوری دے دی ہے ، اور انھیں امریکی تاریخ کا پہلا مسلم وفاقی جج مقرر کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطاباق ڈیموکریٹس کے زیرانتظام امریکی سینیٹ نے 46 سالہ زاہد قریشی کی بطور جج تعیناتی کی تصدیق کیلئے 16، 81 کی نسبت سے ووٹ دیئے ، جو پاکستانی تارکین وطن کے بیٹے اور سابق وفاقی اور فوجی پراسیکیوٹر ہیں۔

نیویارک کے سینیٹ کی اکثریت کے رہنما چک شمر نے سینیٹ میں نوٹ کیا کہ اسلام امریکہ کا تیسرا سب سے بڑا مذہب ہے  لیکن آج تک کسی بھی مسلمان جج نے وفاقی بنچ پر کام نہیں کیا۔

اس موقعے پر چک شمر نے کہا  کہ ہمیں نہ صرف آبادیاتی تنوع بلکہ پیشہ ورانہ تنوع میں بھی اضافہ کرنا ہوگا اور مجھے علم ہے  کہ صدرجو بائیڈن مجھ سے اس بات پر اتفاق کریں گے۔ 

سن 2019 میں مجسٹریٹ کے عہدے پر تقرری سے قبل ، جس کو سینیٹ کی توثیق کی ضرورت نہیں تھی ، زاہد قریشی نیو جرسی کی قانونی فرم رائکر ڈینزگ شیفر ہیلینڈ اینڈ پیریٹی کے وائٹ کالر فوجداری و دفاعی پریکٹس میں شریک ہوئے۔

پاکستانی نژاد شہری زاہدقریشی اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دینے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ قبل ازیں زاہد اسسٹنٹ امریکی اٹارنی، ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے میں معاون چیف وکیل اور امریکی فوج  کے ساتھ ایک پراسیکیوٹر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

زاہد قریشی نے 2004 اور 2006 میں عراق میں امریکی فوج کے ساتھ دو دورے کیے۔امریکی سینیٹ نے پاکستانی نژاد شہری کو امریکی تاریخ میں پہلا مسلمان جج مقرر کرکے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا بھر میں امن کیلئے خدمات انجام دینے والے 44ممالک کے 129 فوجی، پولیس اور سول افراد کیلئے اعزازت کا اعلان کیا گیا جن میں 2 پاکستانی بھی شامل تھے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے سالانہ عالمی دن کے موقع پر امن کیلئے خدمات انجام دینے والوں کے اعزازات کا اعلان کیا گیا ، پاکستانی مندوب منیر اکرم نے پاکستان کے دو شہداء کے اعزازات وصول کیے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ نے 2 پاکستانیوں  کو بعدازمرگ اعزازت سے نوازدیا