پوپ لیو چہار دہم کو پھیپھڑوں کے کینسر کی سرجری کے چار روز بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا جس کے بعد وہ ہفتے کو ویٹیکن واپس پہنچ گئے۔ ان کی اسپتال سے واپسی پر وہاں موجود خیرخواہوں نے تالیاں بجا کر اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 71 سالہ پوپ روم کے جیمیلی اسپتال سے خود چل کر باہر آئے۔ اس موقع پر وہ خوشگوار موڈ میں دکھائی دیئے، لوگوں سے ہاتھ ملایا اور ہاتھ ہلا کر ان کے خیرسگالی کے جذبات کا جواب دیا۔ انہوں نے علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور اسپتال انتظامیہ سے بھی مختصر گفتگو کی۔
اسپتال سے روانگی سے قبل پوپ لیو نے ایک یوکرینی بچی سے ملاقات بھی کی، جو خود کینسر سے صحت یاب ہوچکی ہے اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرنے آئی تھی۔
ویٹیکن کے مطابق پوپ منگل سے اسپتال میں زیر علاج تھے۔ ڈاکٹروں نے ان کے دائیں پھیپھڑے کا ایک حصہ نکال کر کینسر کی رسولی کو خارج کیا تھا۔
ہفتے کے روز طبی ماہرین نے خون کے ٹیسٹ، سینے کے ایکسرے اور ان کی مجموعی صحت کا معائنہ کیا جس کے بعد انہیں اسپتال سے رخصت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پوپ لیو کی اسپتال سے واپسی کے بعد ویٹیکن اور دنیا بھر میں موجود تقریباً ایک ارب 40 کروڑ کیتھولک مسیحیوں میں ان کی صحت کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کم ہونے کی امید ہے۔
شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم کو کلیسا کی قیادت سنبھالے ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے۔
ویٹیکن کے مطابق پوپ لیو اتوار کو سینٹ پیٹرز اسکوائر کے سامنے واقع اپوسٹولک پیلس کی کھڑکی سے روایتی دعائے انجیل جسے اینجلس کہا جاتا ہے پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اسپتال میں قیام کے دوران بھی وہ روزانہ دوپہر کے وقت دسویں منزل پر واقع اپنے کمرے میں عبادت کرتے رہے۔
پوپ کی اسپتال سے واپسی کو ان کی صحت یابی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے تاہم ان کی آئندہ مصروفیات اور صحت کے بارے میں ویٹیکن کی جانب سے جاری ہونے والی مزید معلومات اہم ہوں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








