سیمی فائنل میں رسائی انتہائی مشکل

ورلڈکپ کے اہم میچ میں نیوزی لینڈ نے سری لنکا کو شکست دے کر اپنا تو سیمی فائنل میں پہنچنے کا راستہ انتہائی آسان کردیا جبکہ پاکستان کی تمام امیدوں پر بظاہر پانی پھیر دیا۔ورلڈ کپ کے 41ویں میچ میں نیوزی لینڈ نے سری لنکا کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔ بنگلورو میں کھیلے گئے میچ میں نیوزی لینڈ نے سری لنکا کی جانب سے دیا گیا 172 رنز کا ہدف 23.2 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

نیوزی لینڈ کی اہم جیت نے ورلڈ کپ میں پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کردی ہیں۔پاکستان کو11 نومبر کو کولکتہ میں اپنے آخری میچ میں انگلینڈ کے خلاف زبردست جیت درکار ہے ۔بلیک کیپس کی زبردست فتح کے بعد گرین شرٹس کے لیے کوالیفائنگ کا منظرنامہ تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔اگر پاکستان انگلینڈ کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتا ہے تو اسے اسے 287 رنز سے ہرانا ہوگا۔

نیوزی لینڈ کی کامیابی کے بعد اب پاکستان سیمی فائنل میں جانے کے لیے انگلینڈ کو 287 رنز سے ہرانا ہوگا، اگر قومی ٹیم 300 رنز بناتی ہے تو انگلینڈ کو 13 رنز پر آؤٹ کرنا ہوگا۔اور اگر انگلینڈ پہلے بیٹنگ کرے تو اس کو 50 رنز پر محدود کر کے 2.5 اوورز میں رنزبنانے ہوں گے۔

بھارت، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا پہلے ہی میگا ایونٹ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا چکے ہیں اور اب تک تین ٹیمیں نیوزی لینڈ، افغانستان اور پاکستان خالی پوزیشن کے لیے لڑ رہی ہیں۔جیسے حالات کھڑے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ بلیک کیپس کوالیفائی کرنے کے لیے غالب پوزیشن میں ہیں اور ان کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے جبکہ افغانستان کی پوزیشن ان کے منفی نیٹ رن ریٹ (NRR) کی وجہ سے کمزور ترین ہے۔

یہ واقعی تشویشناک اور افسوسناک ہے کیونکہ کرکٹ شائقین کو میگا ٹورنامنٹ میں دوسری ٹیموں کی جیت، کبھی بارش، کبھی قدرت کا نظام آئی سی سی ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹس کے اگلے راؤنڈ میں آگے بڑھنے کے لیے دعائیں کرنی پڑتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں میرٹ کا خیال نہیں رکھا جاتا،اور ہم دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی کارکردگی سے میگا ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل تک نہیں پہنچ سکتے۔