جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں 14 سالہ طالبہ کی حمل کے دوران موت کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اسکول سے وابستہ ایک استاد کو حراست میں لے لیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبہ کو حمل کا علم ہونے کے بعد طبی علاج اور حمل ختم کرانے کے لیے کشتواڑ سے ڈوڈہ منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم راستے میں اس کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ کم عمر طالبہ کے حاملہ ہونے کے حالات کیا تھے اور اس کی موت کن وجوہات کی بنا پر ہوئی۔ اسی سلسلے میں اسکول سے وابستہ ایک استاد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، تاہم تاحال الزامات ثابت نہیں ہوئے۔
طالبہ کی موت کے بعد کشتواڑ میں شہریوں نے رات گئے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ مظاہرین نے کہا کہ اگر کسی شخص کا کردار ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








