امریکا میں سرگرم سکھ تنظیموں نے آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے سربراہ موہن بھاگوت کے مجوزہ دورۂ امریکا کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سکھ کاکس کمیٹی اور دیگر سکھ تنظیموں نے 20 اگست 2026 کو امریکی وزیر خارجہ کے نام ایک خط ارسال کیا، جس میں کہا گیا کہ موہن بھاگوت 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہونے والی ایک عوامی تقریب میں شرکت کے لیے امریکا پہنچنے والے ہیں۔
خط میں سکھ تنظیموں نے آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان پر بھارت میں سکھوں، مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی رویوں اور نفرت انگیز نظریات کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تنظیموں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کو مدنظر رکھتے ہوئے موہن بھاگوت کے داخلے پر نظرثانی کی جائے۔
تاہم خبر لکھے جانے تک امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس مطالبے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آر ایس ایس کی جانب سے بھی مذکورہ خط پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








