دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے عمانی کو پائلٹ کی جانب سے کپتان پر مبینہ حملے کے بعد اسرائیل نے طیارے کو ممکنہ سکیورٹی خطرہ سمجھتے ہوئے اسے روکنے اور ضرورت پڑنے پر مار گرانے کی تیاری کرلی تھی تاہم طیارے کے سعودی عرب کی جانب رخ کرنے کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں کو واپس بلا لیا گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا ہے کہ نائن الیون (9/11) طرز کے کسی ممکنہ سکیورٹی خطرے کے پیش نظر جب اس پرواز نے فضا میں اچانک ایک خطرناک غوطہ لگایا تو اسرائیلی فضائیہ نے کاک پٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔
اسرائیلی ہنگامی وار روم اور جنگی طیاروں کی پرواز
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی اور کمانڈ سینٹر قائم کر کے اسرائیل کی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ ساتھ ہی اسرائیلی جنگی جیٹس بھی فضا میں بلند کر دیے گئے تاہم جب یہ بات سامنے آئی کہ وہ طیارہ سعودی عرب کی جانب جا رہا ہے (جہاں سعودی فضائیہ نے بھی اپنے طیارے فضا میں روانہ کر رکھے تھے) تو اسرائیل نے اپنے جنگی طیاروں کو واپس بلا لیا۔
فائنل فیصلہ کس نے کرنا تھا؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طیارہ مزید قریب آ جاتا تو اسرائیلی پائلٹس کا مقصد قریب جا کر یہ دیکھنا تھا کہ کاک پٹ کے اندر اصل ماجرا کیا ہے۔ اس کے بعد رپورٹ اعلیٰ حکام کو دی جاتی اور اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ طیارہ ہائی جیک ہو چکا ہے تو اسے مار گرانے کا حتمی اختیار صرف ملک کے وزیراعظم کے پاس تھا۔
اس انتہائی قدم کا مقصد یہ تھا کہ طیارے کو تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ، مشہور عذریلی سینٹر یا کسی بھی حساس ترین قومی مقام پر گرنے سے بچایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








