بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ووٹر لسٹوں سے نام خارج کیے جانے کے خلاف ہزاروں شہری اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکن احتجاج کر رہے ہیں۔
بھارتی اپوزیشن کا الزام ہے کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے نام پر بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف ریاستوں میں اس عمل کے دوران کروڑوں ووٹرز متاثر ہوئے ہیں۔
اس معاملے پر کانگریس رہنما راہول گاندھی سمیت راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے بھی الیکشن کمیشن کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں۔ احتجاج کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی اطلاعات
رپورٹس کے مطابق انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر بھارتی الیکشن کمیشن کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ بعض الیکشن کمشنرز کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں پر اعتراضات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ انتخابی فہرستوں اور متعلقہ سافٹ ویئر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے شواہد اعلیٰ حکام تک پہنچائے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دہلی اور مہاراشٹرا میں بڑی تعداد میں نام حذف ہونے کا دعویٰ
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے دوران دہلی اور مہاراشٹرا سمیت مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام حذف کیے گئے۔ اس عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اہل ووٹرز کے نام دوبارہ فہرستوں میں شامل کیے جائیں۔
دوسری جانب ووٹر رجسٹریشن کے فارم 6 میں تبدیلی کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ اس حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ میں سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ ووٹرز کے اندراج سے متعلق فارم میں تبدیلی کس طریقہ کار کے تحت کی گئی۔
بھارتی اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کا عمل شفاف ہونا چاہیے اور کسی بھی اہل شہری کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی درستگی اور نظرثانی کے عمل کا دفاع کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








