بھارت کو مذہبی آزادی کی بلیک لسٹ میں شامل کرنیکا امکان

دونوں ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کے باوجود امریکی کانگریس میں مسلمانوں  ودیگر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے باعث بھارت پرشدید تنقید ہوتی رہی ہے تاہم اب امریکی کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف اقدامات پر بھارت کو مذہبی آزادی کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے کہا کہ ہندوستان کو تشویشناک ممالک میں شامل کیا جانا چاہئے اور ان کے ریکارڈ کو بہتر بنانے میں ناکامی پر پابندیوں کا اطلاق ہونا چاہئے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور مذہبی آزادی کے زوال پذیر ہونے کا ذکر کیا کیونکہ مودی حکومت اپنے نسل پرست ہندوتوا کے نظریہ پر عمل پیرا ہے۔

یہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ کمیشن سفارشات جاری کرتا ہے لیکن پالیسی مرتب نہیں کرسکتا اور اس بات کا امکان نہیں ہے کہ محکمہ خارجہ اس کی پابندی کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ مضبوط تعلقات مضبوط کیے ہیں اور چند ماہ قبل بھارت کا دورہ بھی کیا لیکن ہندوستان میں امتیازی پالیسیوں پر تنقید نہیں کی ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ امریکی صدر نے حالیہ دورے کے دوران بھی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے باوجود نریندرمودی کی تعریف کی۔

آزاد امریکی کمیشن نے مذہبی آزادی نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بھارتی حکام پرویزا سمیت دیگرسفارتی پابندیاں عائد کرے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دی ، نفرت انگیز بیانات کو بڑھاوا دیا اور تشدد پر اکسانے کی تائید کی۔

عالمی برادری میں بھارت کی کارروائی کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں لیکن اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا واشنگٹن ان سفارشات پر عملدرآمد کرے گا۔ امریکی کمیشن نے کشمیر کے حوالے سے متنازعہ شہریت ایکٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اگرچہ امریکی کمیشن نے ہندوستان میں مسلمانوں پرہونیوالے مظالم کو تسلیم کیا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ بھارت کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے، ایسے میں کارروائی کرنے میں ناکامی سے نریندرمودی کی موجودگی میں 2002 کے گجرات قتل عام کا اعادہ کیاجاسکتاہے۔ یہاں تک کہ کورونا کی وباء کے دوران بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ، اسپتالوں میں ان کا علاج نہیں کیا جاتا ہے اور ان کو بری طرح سے بدنام کرنے کی بدنیتی پر مبنی مہم چل رہی ہے۔

بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو بدترین مظالم کا سامنا ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے بحران جنم لے رہا ہے ، ایسے میں عالمی برادری کو انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بھارت میں مذہبی آزادی کے خاتمے کے بارے میں بات کرنی چاہئے اور بھارت پراس گھناؤنے فعل کے جواب میں سخت پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں