خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں تین منزلہ نجی اسکول کی چھت گرنے سے بچوں اور خاتون ٹیچر سمیت 30 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اسکول کی چھت گرنے کے باعث متعدد بچے ملبے تلے دب گئے جنہیں نکالنے کے لیے امدادی ٹیموں نے کارروائیاں کیں۔ حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق 28 لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال جبکہ 2 لاشیں نصیراللہ بابر میموریل اسپتال پہنچائی گئیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ 25 زخمی بچوں کو بھی طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

دوسری جانب سی سی پی او پشاور میاں سعید نے بتایا کہ حادثے میں زخمیوں کی تعداد 40 سے تجاوز کرگئی ہے۔ ان کے مطابق نجی اسکول کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے کا شکار اسکول کی عمارت تین منزلہ تھی۔ واقعے کی وجوہات معلوم کرنے اور چھت گرنے کے اسباب کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کا ملبہ ہٹانے کا عمل جاری رہا جبکہ ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے۔



گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسکول کی چھت گرنے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








