حکومت سازی اور جوڑ توڑ، حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

ملک بھر میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد سیاسی صورتحال دگرگوں ہے، خاص طور پر بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں جیتنے کے باعث پیدا ہونے والا سیاسی بحران حل طلب ہے اور حالات کا اونٹ فی الحال کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین اتوار کے روز تک ہونے والی جوڑ توڑ کے مطابق ن لیگ حکومت سازی کیلئے متحرک ہے جس کی جانب سے پی پی پی کو چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت کم از کم 3 سے 4 عہدوں کی پیشکش کی گئی، تاہم پاکستانی میڈیا کے دعوؤں کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزارتِ عظمیٰ مانگ لی اور پنجاب میں بھی وزارتِ اعلیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے، تاہم یہ کچھ ایسی اطلاعات ہیں جو مفروضوں پر مبنی یا پھر مکمل طور پر حقیقت بھی ہوسکتی ہیں اور غورطلب بات یہ ہے کہ ن لیگ یا پی پی پی میں سے کسی بھی جماعت نے اس کی تاحال تصدیق نہیں کی، پھر بھی میڈیا میں ایسے ہی متعدد دعوے سامنے آتے رہتے ہیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اور صوبائی، خاص طور پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں آزاد امیدواروں کی اکثریت سے ایک نیا بحران جنم لیتا دکھائی دیتا ہے جن کی زیادہ تر تعداد کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے اور جن کی بنیاد پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنما نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ وفاق اور پنجاب میں بھی اپنی حکومت لانے کے دعوے کر رہے ہیں، کیونکہ حکومت لانے کے دعوے تو مسلم لیگ (ن) بھی کر رہی ہے بلکہ ن لیگی سیاستدان تو اپنے تئیں نواز شریف کو مسلسل چوتھی بار ملک کا منتخب وزیر اعظم قرار دے چکے ہیں جس کا صرف اعلان ہی ہونا باقی رہ گیا ہے۔
تاہم آزاد امیدواروں کی اکثریت کے باعث وزیر اعظم کے الیکشن کے بجائے سیلیکشن کا رجحان زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ سیاسی جوڑ توڑ کا اونٹ تو کسی بھی کروٹ بیٹھ سکتا ہے جس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو خاص مہارت حاصل ہے جس کا مظاہرہ ماضی میں بھی دیکھنے میں آچکا ہے۔ قومی اسمبلی کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پارٹی پوزیشن کے اعتبار سے آزاد امیدوار پہلے، ن لیگ دوسرے جبکہ پی پی پی تیسرے نمبر پر ہے۔
راقم الحروف کے تجزیے کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مرکز میں، پی ٹی آئی کے آزاد ارکان کے پی کے میں جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ میں اپنی حکومت قائم کریں گے جنہیں 2018 کے مقابلے میں سندھ میں زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں پہلے سے کہیں زیادہ نشستیں اپنے نام کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) بھی مخلوط حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے، جس نے مسلم لیگ (ن) سے اتوار کے روز تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت سازی کے عمل میں متعدد معاملات پر اتفاق کر لیا تھا اور مسلم لیگ (ن) بھی ایم کیو ایم کی جانب سے پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرتی نظر آئی۔
یہاں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ تحریکِ انصاف کے آزاد ارکان کو عمران خان کو سنائی جانے والی سزاؤں اور جیل میں قید کے باعث ہمدردی کا ووٹ پڑا یا پھر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی قیادت میں پی ڈی ایم حکومت نے ڈیڑھ سالہ حکومت میں عوام پر مہنگائی کے جو پہاڑ توڑے ان سے جنم لینے والی نفرت کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا، دونوں ہی صورتوں میں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ عمران خان کی مقبولیت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا، بقول شاعر:
الزام سے حاصل بجز الزام نہ ہوگا
بدنام جو ہم ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟
سویہی بدنامی جو عمران خان کے حصے میں آئی، ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کو لگنے والی پھانسی سے کسی نہ کسی حد تک مشابہ ہے کیونکہ پھانسی لگنے کے بعد پیپلز پارٹی کو بطور عوامی جماعت جو مقبولیت ملی، آج تک سندھ میں کسی اور پارٹی کے حصے میں نہیں آسکی لیکن اگر بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی اور 2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید نہ کیا جاتا تو کیا آئندہ 40 سال میں بھی پی پی پی کوئی اہم جماعت بن کر ابھر سکتی تھی؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اسی سوال پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں کو بھی غور کرنا ہے کہ اگر عمران خان کو پابندِ سلاسل نہ کیا جاتا اور دیگر دو بڑی جماعتیں بدعنوانی کے عروج کو چھوتی تصور نہ کی جاتیں تو کیا پھر بھی اتنی بڑی تعداد میں آزاد ارکان کو قومی و صوبائی ایوانوں میں جگہ مل سکتی تھی؟
ہوسکتا ہے کہ آئندہ 24گھنٹوں کے دوران سیاسی صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی رونما ہو، جس کا دارومدار آزاد ارکان کو دولت کی چمک یا سختی کی بناء پر اپنی جانب راغب کرنے پر یا پھر عالمی تغیرات پر ہوسکتا ہے، تاہم حکومت مسلم لیگ (ن) کی آئے یا پھر صوبائی سطح پر پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی کی، دونوں ہی صورتوں میں پاکستان کو اپنی معاشی صورتحال کو بہتری کی جانب گامزن کرنے کیلئے شدید محنت، مفاہمت اور عزمِ مسلسل کی پالیسی کو اپناتے ہوئے ایک جاندار حکمتِ عملی تشکیل دینا ہوگی جو دوست ممالک اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کی جانب مائل کرسکے، امپورٹ ایکسپورٹ کا توازن، کرنسی کی قدر اور دیگر معاشی اشاریوں کو بہتر کرے، اس سے پہلے کہ غریب آدمی کی مجبوریاں اسے تشدد اور مزاحمت کی جانب مائل کریں تاکہ کسمپرسی کا سامنا کرتے عوام جو آج کل صرف اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب بھی پورا کرتے ہوئے ملکی تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔
اگر ہم قارئین کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کراسکیں کہ انتخابی مہم کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) سے الگ راہ کا انتخاب کرتے ہوئے فرسودہ سیاست کو خیر باد کہنے کا اعلان کیا اور تحریکِ انصاف ہی کی طرح بر وقت انتخابات کا مطالبہ شروع کردیا تھا اور شاید اسی مطالبے کا ہی نتیجہ تھا کہ رواں ماہ کے آغاز میں ہی الیکشن کمیشن نے انتخابات کا وعدہ پورا کردیا، معروضی حالات میں دھاندلی اور سیاسی جماعتوں پر قدغنوں کے الزامات سے قطعِ نظر ہواؤں کے بدلتے رخ اور فضاؤں کی رنگت دیکھتے ہوئے یہ بعید از قیاس نہیں کہ اگر پیپلز پارٹی اپنی تاریخی اقدار برقرار رکھتے ہوئے پی ٹی آئی سے مفاہمت کرنے میں کامیابی حاصل کرلے، تو بآسانی حکومت بنائی جاسکتی ہے، جس کی کہ سعی سیاست کے بادشاہ آصف علی زرداری کی جانب سے زور وشور سے جاری ہے۔ مگر عمران خان کا اپنے ارادوں سے متزلزل ہونا جوئے شیر لانے سے کم نہیں، گو کہ پی ٹی آئی کے ذی شعور ارکان ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی سے الحاق کا کڑوا گھونٹ پینے کو تیار نظر آتے ہیں۔

اگر پی پی پی کی کوششیں بار آور ثابت ہوتی ہیں اورعمران خان بلاول بھٹو کو ابتدائی طور پر وزیر اعظم کے طور پر قبول کرلیں تو حکومت سازی ہوسکتی ہے جو کہ یقیناً پی ٹی آئی کے اصولی موقف کے خلاف ہوگا، مگر کیا اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مقتدر ادارے حقیقی مقبولیت کو قبولیت عطا کرسکیں گے؟ اس ضمن میں اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کی مخدوش معیشت اس بات کی متقاضی ہے کہ مختلف سیاسی دھڑے مفاہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ عرصے کیلئے اپنی انا اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھیں اور ملکی مفاد کی خاطر معیشت کے محاذ پر مصیبت زدہ قوم کے آنسوؤں کا ازالہ کرتے ہوئے جمہور کی آواز کو تسلیم کرنے کی ہمت پیدا کریں۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں