سردیاں: قلتِ گیس کا موسم

بد قسمتی سے کچھ عرصے سے پاکستان میں سردیوں کا موسم گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے گیس کی قلت کا موسم بن کر رہ گیا ہے اور سردیوں کی آمد کا نقارہ بجتے ہی لوگوں کو گرم ملبوسات کے ساتھ ساتھ گیس کی ضروریات کی فکر بھی دامن گیر ہونے لگتی ہے۔

سردیاں جوں جوں آگے بڑھتی جاتی ہیں گیس کی طلب بڑھنے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں پہلے سے گیس کی قلت کا سامنا کرنے والے ملک میں ایندھن کے مسائل نئی موسمی پریشان کا سرِ عنوان بن جاتے ہیں۔ گیس کی قلت سے پیدا ہونے والی پریشانی جنوری میں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے، جب ملک میں سردیاں بھی پورے جوبن پر ہوتی ہیں۔ اس بار حکومت نے جنوری کے لیے ایل این جی کارگو کا آرڈر دے دیا ہے، مگر یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ متعینہ مدت تک یہ کارگو پاکستان کے ہینڈ اور ہو پائے گیا نہیں۔

یہ سوال بھی سردیوں کے آغاز کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ آخر ملک میں گیس کی قلت کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ ماہرین کے مطابق اس کی چند اہم وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ گیس کے ملکی ذخائر کی دریافت اور ان سے گیس کے حصول کا آغاز دہائیوں قبل ہوا تھا، جب سے مسلسل گیس کے حصول کے نتیجے میں یہ ذخائر کم ہوتے چلے گئے ہیں، جبکہ اس عرصے میں مزید گیس ذخائر کی دریافت پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔

صرف یہی نہیں کہ پاکستان میں نئے ذخائر کی تلاش اور دریافت پر دہائیوں سے کوئی کام نہیں ہوا ہے بلکہ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے گیس درآمد کرنے کے لیے جاری پائپ لائن منصوبے بھی کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں اور ان پر تاحال کسی حکومت نے سنجیدگی سے کام کرنے کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔

ان حالات میں سردیوں میں اضافی کارگو کا حصول پاکستان کی اہم ضرورت بن کر رہ گیا ہے، حالانکہ اس کی درآمد قومی خزانے پر اچھا خاصا بوجھ ڈالتی ہے۔ ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ کچھ تحفظات کی بنا پر پاکستان آزربائیجان سے بھی اپنی ضرورت کی باکفایت گیس کے حصول سے عاجز ہے۔

گیس کا یہ بحران سرد موسم میں عوام کیلئے بڑا درد سر بن جاتا ہے۔ حکام کو اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے دانشمندی سے مستقل بنیادوں پر کام کرنا چاہیے، یہ صرف ایک بار کا مسئلہ نہیں ہے، ہر سال سردیوں کے دوران یہ مسئلہ پوری قوم کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیتا ہے۔