ایلون مسک کی اڑنے والی کار، حقیقت یا ایک حیران کن مظاہرہ؟ فزکس کیا کہتی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے اپنی نئی نسل کی روڈسٹر اسپورٹس کار پیش کردی ہے جس میں راکٹ طرز کے تھرسٹرز، خصوصی سکشن سسٹم اور غیر معمولی رفتار جیسی خصوصیات متعارف کرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم گاڑی کے عملی استعمال، حفاظت اور کارکردگی سے متعلق متعدد سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔

ٹیسلا نے اس گاڑی کا ابتدائی تصور 2017 میں پیش کیا تھا لیکن تقریباً نو سال گزرنے کے باوجود اس کی تجارتی پیداوار شروع نہیں ہوسکی۔ اس دوران دیگر کمپنیوں نے بھی جدید الیکٹرک اسپورٹس کاریں متعارف کرائی ہیں اور رفتار کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

گاڑی الٹی سمت میں کیسے چلتی ہے؟

روڈسٹر کے مظاہرے میں گاڑی کو ایک خصوصی ریمپ پر عمودی طور پر اوپر چڑھتے اور پھر الٹی حالت میں چلتے دکھایا گیا۔ اس کے لیے کمپنی نے ملٹی موڈ سکشن سسٹم استعمال کیا جس میں نصب پنکھے گاڑی کے نچلے حصے میں ہوا کا دباؤ کم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیرونی فضائی دباؤ گاڑی کو سطح کے ساتھ چپکائے رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ اصول پہلے بھی استعمال ہوچکا ہے۔ برطانوی کمپنی میک مرٹری کی اسپیرلنگ بھی پنکھوں کی مدد سے غیر معمولی ڈاؤن فورس پیدا کرتی ہے۔ تاہم، ٹیسلا کے نظام کی حقیقی کارکردگی جانچنے کے لیے آزادانہ تکنیکی آزمائش ضروری ہے۔

کمپنی نے تقریباً 4,700 کلوگرام کے برابر ڈاؤن فورس پیدا کرنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن تکنیکی تجزیے میں اس عدد کو گاڑی کے مبینہ وزن کے مقابلے میں غیر معمولی قرار دیا گیا ہے۔

راکٹ تھرسٹرز سے چھلانگ، مگر فائدہ کتنا؟

روڈسٹر کے ایک اور مظاہرے میں گاڑی کو ریمپ سے چھلانگ لگاتے، فضا میں گھومتے اور دوبارہ زمین پر اترتے دکھایا گیا۔ اس عمل کے لیے کولڈ گیس تھرسٹرز استعمال کیے گئے، جو دباؤ کے تحت گیس خارج کرکے گاڑی کو مخصوص سمت میں قوت فراہم کرتے ہیں۔

ٹیسلا نے گاڑی کے تین ورژنز، پرفارمنس، تھرسٹ اور راکٹ، کا ذکر کیا ہے۔ راکٹ ورژن میں اضافی گیس ٹینکوں اور تھرسٹرز کی تنصیب کے لیے دوسری نشست ختم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ماہرین کے تکنیکی تجزیے کے مطابق، گاڑی کو اوپر اٹھانے والے تھرسٹرز لازماً اس کی سڑک پر کارکردگی بہتر نہیں بناتے، کیونکہ اس سے ٹائروں کی سڑک پر گرفت متاثر ہوسکتی ہے۔ البتہ، اطراف میں نصب تھرسٹرز موڑ کاٹنے کے دوران اضافی قوت فراہم کرسکتے ہیں، تاہم اس فائدے کی تصدیق کے لیے مزید آزمائش درکار ہے۔

ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 97 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار؟

ٹیسلا نے دعویٰ کیا ہے کہ روڈسٹر صفر سے 60 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 97 کلومیٹر فی گھنٹہ، کی رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کرسکتی ہے۔ کمپنی نے مخصوص ورژن کے لیے 0.55 سیکنڈ کا وقت بھی بیان کیا ہے۔

اس کارکردگی کے لیے تھرسٹرز، سکشن سسٹم اور ایک میگاواٹ سے زیادہ طاقت رکھنے والے پاور ٹرین کے امتزاج کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی آزادانہ اور معیاری آزمائش کے ذریعے تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

یہاں ون فٹ رول آؤٹ طریقہ بھی اہم ہے، جس میں گاڑی کے ابتدائی ایک فٹ حرکت کرنے کے بعد وقت کی پیمائش شروع ہوتی ہے۔ اس طریقے سے ریکارڈ کیا گیا وقت عام پیمائش کے مقابلے میں کم ہوسکتا ہے۔

بیٹری کی رینج 600 سے کم ہوکر 300 میل سے زیادہ کیوں رہ گئی؟

ٹیسلا نے 2017 میں نئی روڈسٹر کے لیے ایک مرتبہ چارج کرنے پر 600 میل سفر کرنے کا ہدف پیش کیا تھا، جبکہ تازہ معلومات کے مطابق اب گاڑی کی رینج 300 میل سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

اس تبدیلی کی حتمی وجہ واضح نہیں کی گئی۔ بیٹری کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور فوری طور پر طاقت فراہم کرنے کی صلاحیت کے درمیان توازن گاڑی کی مجموعی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ زیادہ طاقت کے لیے بڑی بیٹری استعمال کرنے سے وزن اور لاگت بڑھ سکتی ہے۔

کمپنی نے 800 سے 1,000 وولٹ کے بیٹری پیک کو 15 سے 80 فیصد تک چارج کرنے کے لیے تقریباً 10 منٹ کا وقت بتایا ہے، تاہم بیٹری کی مکمل گنجائش ظاہر نہیں کی گئی۔

کیا راکٹ روڈسٹر عام سڑکوں پر چل سکے گی؟

گاڑی کے راکٹ ورژن کے عملی استعمال کے حوالے سے اہم خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ تھرسٹرز سے خارج ہونے والی گیس سڑک پر موجود گردوغبار اور چھوٹے ذرات کو دور تک اچھال سکتی ہے، جس سے دوسری گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، انتہائی تیز رفتار ایکسیلیریشن، فضا میں گاڑی کی حرکت، گیس کے ذخیرے اور حادثے کی صورت میں حفاظت جیسے معاملات بھی توجہ طلب ہیں۔ ٹیسلا کے مطابق راکٹ ورژن کو عوامی سڑکوں پر استعمال کی منظوری حاصل نہیں۔

عالمی مقابلے میں ٹیسلا کو کتنا فائدہ ہوگا؟

الیکٹرک ہائپرکارز کی مارکیٹ میں ریمک نیویرا، لوٹس ایویجا ایکس اور بی وائی ڈی کی یانگ وانگ U9 ایکسٹریم جیسی گاڑیاں پہلے ہی نمایاں کارکردگی دکھا چکی ہیں۔

ٹیسلا کی نئی روڈسٹر کے دعوے بلاشبہ غیر معمولی ہیں، لیکن اس کی حقیقی برتری کا فیصلہ آزادانہ رفتار ٹیسٹ، ٹریک ریکارڈز اور تجارتی طور پر تیار ہونے والی گاڑی کی کارکردگی سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

مجموعی طور پر روڈسٹر کا مظاہرہ ٹیسلا کی انجینئرنگ صلاحیتوں کی نمائش ضرور ہے لیکن اسے کامیاب تجارتی گاڑی ثابت کرنے کے لیے کمپنی کو اپنے دعووں کی عملی تصدیق، حفاظتی تقاضوں اور روزمرہ استعمال سے متعلق چیلنجز پر پورا اترنا ہوگا۔

Related Posts