کراچی کی سڑکوں پر اڑی تو بجلی کی تاروں میں پھنس جائے گی! فلائنگ کار پر پاکستانیوں کی میمز

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ٹیکنالوجی کی دنیا میں اڑنے والی گاڑیوں (فلائنگ کارز) کے چرچے تو عام ہیں لیکن جب یہ تصور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے ہتھے چڑھا تو تخیل کی اڑان نے ایسے طنز و مزاح کے جوہر دکھائے کہ دیکھنے والے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ انٹرنیٹ پر اس وقت فلائنگ کارز کے حوالے سے میمز اور لطیفوں کی ایسی بھرمار ہے جس نے ہر خاص و عام کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔

پاکستانی صارفین نے اڑنے والی ان جدید گاڑیوں کو ملک کے روایتی مسائل، سڑکوں کے حالات اور تہواروں کے ساتھ جوڑ کر انتہائی تخلیقی اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کیا کچھ ہماہمی مچی ہوئی ہے:

کراچی کی ٹریفک سے فرار اور گھر کی سبزی منگوانا

جہاں دنیا بھر کے سائنسدان فلائنگ کارز کو مستقبل کی بڑی ٹرانسپورٹ سوسائٹی کے طور پر دیکھ رہے ہیں وہیں ہمارے دیسی صارفین نے اس کا بالکل انوکھا استعمال ڈھونڈ لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک میم میں دکھایا گیا ہے کہ کراچی کی شدید ٹریفک اور گھنٹوں کے جام سے جان چھڑانے کے لیے یہ اڑتی ہوئی کاریں کتنی کارآمد ثابت ہوں گی۔ جبکہ ایک اور صارف نے ہنسی مذاق میں یہاں تک تجویز دے ڈالی کہ اب گھر کا سالن یا سبزی منگوانے کے لیے بھی اسی اڑنے والی سواری کا استعمال کیا جائے گا۔

بسنت کی بکنگ اور بجلی کے تاروں کا جھمیلا

پاکستان میں بسنت کے تہوار کی آمد اور گڈی لوٹنے کے جنون کو کون نہیں جانتا؟ ایک ذہین (اور انتہائی شوخ) صارف نے اعلان کر ڈالا کہ اس نے آسمان پر پتنگیں لوٹنے اور ڈور پھرنے کے لیے فلائنگ کار کی ایڈوانس بکنگ کروا لی ہے! دوسری جانب ایک اور طنزیہ تصویر میں فلائنگ کار کو ہمارے شہروں کے روایتی منظر یعنی “بجلی کے تاروں کے جال” میں بری طرح الجھا ہوا دکھایا گیا ہے، جس پر صارفین خوب تبصرے کر رہے ہیں۔

دیسی انویشن: گدھا گاڑی سے فلائنگ کار تک

تخلیقی مزاح کا یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما۔ ایک انتہائی شاہکار میم میں روایتی گدھا گاڑی کو ہی جدید پر لگا کر فلائنگ کار میں تبدیل کر دیا گیا جسے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین کی ہنسی نہیں رک رہی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Hussain Balti (@tasawwor_hussain09)

مختصر یہ کہ ایلون مسک کی اڑنے والی گاڑی کا تصور پاکستان میں سنجیدہ بحث کم اور دیسی ٹھٹھیں اور مزاح کا مرکز زیادہ بن چکا ہے، جہاں عوام اپنی روزمرہ کی زندگی کی تلخیوں کو ان مزاحیہ میمز کے ذریعے مسکان میں بدل رہے ہیں۔

Related Posts