ڈاکٹر اقبال چوہدری نے مبینہ طور پر ڈاکٹر رضا شاہ کو ORIC کا ڈائریکٹر بننے سے رکوا دیا

ڈاکٹر اقبال چوہدری نے مبینہ طور پر ڈاکٹر رضا شاہ کو ORIC کا ڈائریکٹر بننے سے رکوا دیا

کراچی: ریٹائرڈمنٹ کے بعد بھی دوسری بارحسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایچ ای جے) کے ڈائریکٹرڈاکٹر اقبال چوہدری نے سینئر پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ کو ڈائریکٹر اورک بننے سے رکوا دیا، ڈاکٹر اقبال چوہدری کے دوسری بار بھی ڈائریکٹر بننے سے سینئر پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ کی حق تلفی کی گئی ہے، موجودہ قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ناصرہ خاتون کو اتھارٹی کی جانب سے ڈاکٹر رضا شاہ کو اورک کا ڈائریکٹر لگانے سے منع کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کی عبوری انتظامیہ کی جانب سے اچھا فیصلہ کرتے ہوئے سینئر پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ کو آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC)کا ڈائریکٹر بنائے جانے کی تیاری کی گئی تھی جس کے لئے خود قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر مقصود انصاری نے وائس چانسلر کے حکم پر سینئر ڈاکٹر رضا شاہ کو بذریعہ فون اطلاع بھی دی تھی۔

بعد ازاں اس تعیناتی کی تیاری کی اطلاع حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایچ ای جے) کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال چوہدری کو ہوئی جنہوں نے مبینہ طور پر اثر و رسوخ استعمال کرکے ایک بار پھر سینئر پروفیسر کی حق تلفی کرتے ہوئے ان کی تعیناتی روکنے کے لئے موجودہ انتظامیہ پر دباؤ بڑھایا اور متعلقہ اتھارٹی سے بھی منع کروایا ہے جس کی وجہ سے مذکورہ تعیناتی نہیں ہو سکی ہے۔

اس حوالے سے نمائندہ کی جانب سے ایچ ای جے کی موجودہ فکلیٹی ممبرز میں سب سے سینئر پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کس نے اور کیوں یہ تعیناتی رکوائی ہے،البتہ مجھے آفر ہوئی تھی پھر کیا ہو اکیا نہیں ہوا، اس کا مجھے معلوم نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میری مدت ملازمت میں ابھی 12 سے 13برس باقی ہیں، اور میں بیسک پے اسکیل پر سینئر ہوں اور میرے بعد ڈاکٹر فرزانہ شاہین (ٹی ٹی ایس) پرسینئر پروفیسر ہوں اور کلینکل سائنس کا سربراہ بھی ہوں۔

واضح رہے کہ حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایچ ای جے)کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈاکٹر پروفیسر اقبال چوہدری 4برس قبل اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے ریٹائرڈہوگئے تھے جس کے بعد ا ن کو ایک بارپھر دوسال کے لئے خلاف ضابطہ طور پر سینئر پروفیسرز کی حق تلفی کرکے ڈائریکٹر بنایا گیا تھا جس کے بعد سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے انہیں دوسری بار پھر ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری کے بعد د و سال کے لئے ڈائریکٹر ایچ ای جے بنا دیا تھا جس کی وجہ سے ایک بارپھرسینئر پروفیسرز کی حق تلفی کی گئی ہے۔جس کے بعد اب ڈاکٹر اقبال چوہدری 2023تک قائم مقام ڈائریکٹر ہونگے۔

حیرت انگیز طور پر حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایچ ای جے)نے خلاف ضابطہ طور پر تقریبا 10برس قبل جامعہ کے اورک کے ہوتے ہوئے اپنا آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC)بنا لیا تھا، اس حوالے سے حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایچ ای جے)کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبا ل چوہدری سے رابطہ کیا گیا جن کا کہنا تھا کہ ہمارے کسی سینئر پروفیسر کو کسی دوسرے ڈپارٹمنٹ میں اس طرح کی ذمہ داری دینے سے ہماری اپنی چیزیں متاثر ہوتی ہیں کیوں کہ ایچ ای جے خود اہم امور کی انجام دہی میں مصروف ہے اورڈاکٹر رضا شاہ خود بھی اہم ذمہ داریوں پر تعینات ہیں جن کی ایچ ای جے کو بہت ضرورت ہے۔

معلوم رہے کہ اس وقت آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC)میں کوئی بھی مستقل ڈائریکٹر نہیں ہے جس کی وجہ سے عارضی طور پر ڈاکٹر اسما تبسم کو انچارج اورک بنایا گیا ہے جن سے قبل اورک کی انچا رج شعبہ باٹنی کی پروفیسر ڈاکٹر عالیہ ڈائریکٹر اورک تھیں جو جنوری میں ریٹائرڈ ہوئی تھیں اُن سے بھی قبل سابق رجسٹرار ڈاکٹر ماجد ممتاز کے پاس ڈائریکٹر اورک کا بھی چارج رہا ہے۔

مزید پڑھیں:جامعہ کراچی میں سخت سیکورٹی کے باوجود مسلح ڈاکوؤں نے طالب علم کو لوٹ لیا

اس حوالے سے جامعہ کراچی کے قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر مقصود انصاری نے موقف دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے از خود بعض سینئرز پروفیسرز سے رائے لیتھی کہ اگر ان کو اورک کا ڈائریکٹر بنایا جائے تو کیا وہ انکار تو نہیں کردیں گے، کیوں کہ اگر کسی کو بنا دیا جائے اور بعد میں وہ انکار کردے تو اس صورت میں عجیب سالگتاہے، اس لئے ہمارے سامنے ڈاکٹر رضا شاہ، ڈاکٹر بلقیس گل اور ڈاکٹر ارم سمیت دیگر کا آپشن بھی آیا تھا، ہم نے معاملات کو چلانے کیلئے ڈائریکٹر تعینات کرنا ہے جس کا فیصلہ ابھی نہیں ہو اہے تاہم کسی کے منع کرنے والی بات میں صداقت نہیں ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں