کیا عمران خان ضمانت کے بعد جیل سے رہا ہو سکتے ہیں؟

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

ہفتہ کو اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی 9مئی کو پیش آنے والے واقعے سے متعلق تمام مقدمات میں ضمانت منظور کر لی۔

کیا عمران خان ضمانت کے بعد جیل سے رہا ہو سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو ضمانت ملنے کے بعد ہر کوئی پوچھ رہا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس سوال کے جواب پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

توشہ خانہ، عدت کیس اور سائفر کیس میں 150 سے زائد مقدمات اور سزاؤں کا سامنا کرنے والے عمران خان جیل میں ہی رہیں گے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by The Current (@thecurrentpk)

عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید اور غیر قانونی شادی کیس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان مشترکہ مقدمات میں عمران خان کو مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

حالیہ ضمانت کی منظوری کے باوجود دونوں رہنما عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل میں رکھا جائے گا۔ 9 مئی کے واقعے سے منسلک ان کے مقدمات کی کارروائی بھی جیل کے احاطے میں ہی جاری رہے گی۔

قانونی لحاظ سے عمران خان کی رہائی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ تین مقدمات میں ٹرائل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کو معطل کرنے کا فیصلہ نہ کرے۔