کیا ایران امریکا ڈیل فائنل ہوگئی؟ دستخط کا امکان کب؟

تازہ ترین

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ آج بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ایک جانب تو ایران اور امریکا کے مابین کشیدگی ختم ہونے کی نویدیں سنائی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی حملے کیے ۔امریکی سینٹ کام نے ایران کے اندر متعدد اہم تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں “دفاعی کارروائیاں” قرار دیا ، تاہم اسی دوران صورتحال میں ایک غیر معمولی سفارتی موڑ سامنے آیا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اس تاثر کی تردید کی کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں بڑی رعایتیں دی ہیں، جبکہ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے ابھرنے والے معاہدے کو “کارکردگی پر مبنی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس وقت تک منجمد اثاثوں تک رسائی نہیں دی جائے گی جب تک وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق ایران کی جانب سے سامنے آنے والے مبینہ تبصرے اس تحریری معاہدے کی درست عکاسی نہیں کرتے جس پر دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق ہوا ہے۔ہر مرتبہ ڈیل قریب آتے آتے پھر دور ہوجاتی ہے اور اس بار توقع کی جاسکتی ہے کہ فریقین کی مجبوری کے سبب یہ ڈیل عنقریب طے پاجائے گی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران پر مجوزہ مسلسل  تیسری رات کیے جانے والے حملے منسوخ کر دیے گئے ہیں کیونکہ تہران کے ساتھ مذاکرات ایک ایسے مرحلے کے قریب پہنچ گئے ہیں جہاں باہمی معاہدہ ممکن دکھائی دیتا ہے بلکہ اسی ہفتے اس پر دستخط کیے جانے کا بھی قوی امکان ہے ، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بات چیت نہ صرف ایران کی اعلیٰ قیادت تک پہنچ چکی ہے بلکہ معاہدے کے “حتمی نکات” فریقین کی منظوری کے آخری لمحات میں ہیں تاہم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس ڈیل میں پارٹی نہیں ہیں۔ یہ اعلان اس سے چند گھنٹے قبل دی جانے والی سخت وارننگ کے بالکل برعکس ہے، جن میں انہوں نے ایران کو “بہت سخت” حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے خُرگ جزیرے اور دیگر تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

حال ہی میں ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس سے پہلی نظر میں یہی محسوس ہوتا تھا  کہ اس خطے میں جنگ کی آگ دوبارہ پوری شدت سے بھڑک اٹھے گی تاہم حقیقت  اس سے مختلف ثابت ہوئی اور موجودہ حالات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کیلئے محدود نوعیت کی جوابی کارروائیاں ان کی سیاسی اور عسکری مجبوری کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔

جب بھی کسی ایک فریق کی جانب سے حملہ یا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو دوسرے فریق کی جانب سے بھی جواب دینا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ داخلی سیاست اور عوامی تاثر ہے اور دونوں ہی ممالک کی حکومتیں اپنے عوام کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ محدود عسکری کارروائیوں کا سلسلہ اکثر اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب پس پردہ سفارتی رابطے برقرار ہوتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسی میں بھی ایک نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ عالمی سکیورٹی ماہر رچرڈ وِیٹز کے مطابق ٹرمپ نے  اسکیلیٹ ٹو ڈی-اسکیلیٹ  یعنی کشیدگی بڑھا کر اسے کم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی، جس کا مقصد دباؤ کے ذریعے سفارتی پیش رفت حاصل کرنا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ فریقین کے درمیان اصل میں کیا طے پایا ہے اور اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا۔

اسی تناظر میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ واشنگٹن میں موجود مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا مشترکہ مؤقف موجود ہے، تاہم وائٹ ہاؤس میں اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ نیتن یاہو سفارتی کوششوں کو متاثر نہ کریں، اسی لیے ٹرمپ انتظامیہ انہیں مذاکرات کے لیے وقت دینے پر زور دے رہی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک سینئر عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر ایران کی اعلیٰ قیادت بھی غور کر رہی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو ایران اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔تہران کے اندر عوامی سطح پر بھی یہ بیانیہ ابھر رہا ہے کہ اگرچہ جنگ نے مشکلات پیدا کیں، لیکن ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے امکانات ایران کیلئے ترقی و خوشحالی کی نوید بن سکتے ہیں اور  حکومتی حلقے اسے “قربانیوں کے بدلے مضبوط پوزیشن” کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

خطے کے دیگر ممالک بھی ایران امریکا کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہوئے، حا ل ہی میں کویت نے احتیاطی تدابیر کے تحت اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرکے پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا، جبکہ اردن میں امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی۔اس دوران لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بدھ اور جمعرات کے درمیان اسرائیلی فوجی اہداف پر ڈرون، میزائل اور راکٹ حملوں سمیت مجموعی طور پر 24 کارروائیاں کیں، جن میں جنوبی لبنان اور وادی بقا کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ صورت حال اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ عسکری سطح پر کشیدگی موجود ہے، لیکن بیک وقت سفارتی چینلز بھی فعال ہو چکے ہیں۔ امریکا کے لیے ایک نئی بڑی جنگ سیاسی اور معاشی طور پر مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ ایران بھی طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اسی لیے موجودہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محدود حملے اور سخت بیانات دراصل مذاکرات سے پہلے دباؤ بڑھانے کے ہتھکنڈے ہیں، نہ کہ مکمل جنگ کی طرف پیش قدمی۔اسی تناظر میں پاکستان کی ممکنہ ثالثی بھی اہمیت اختیار کر رہی ہے، کیونکہ پاکستان ماضی میں بھی علاقائی تنازعات میں سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے اور اگر فریقین آمادہ ہوں تو اسلام آباد ایک بار پھر مذاکراتی عمل میں سہولت کار بن سکتا ہے۔

اگر پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے مابین جنگ بندی کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے تو اس سے خود پاکستان کے بھی نہ صرف متعدد معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں بلکہ ترقی و خوشحالی کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں ، جس کی جانب عالمی مبصرین بھی اشارہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین یہ کشیدگی مستقل جنگ بندی میں کب تبدیل ہوگی اور ایک دوسرے کو خاک اور خون میں نہلانے کا یہ سلسلہ کب تھمے گا؟ اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔

Related Posts