عالمی نقشے میں غیرمحسوس مگر اہم تبدیلی

محمد طارق خان


کالم نگار صحافی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاءمیں لیکچرار ہیں

پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ایک باریک سی لکیر جو تقریباً 50 سے 100 میل خطہ زمین کو ظاہر کرتی ہے، اس لکیر کا ایک حصہ اچانک غائب ہوگیا ہے اور یوں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان واقع یہ افغان علاقہ یا تو پاکستان میں ضم کردیا گیا ہے یا تاجکستان میں یا دونوں میں تقسیم، اس طرح انگریز کی کھینچی گئی ایک فرضی لکیر جسے ہم ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانتے ہیں اس کا ایک حصہ معدوم ہوگیا۔

1947 ء میں پاکستان کی آزادی کے ساتھ جنوب مغربی ایشیا کے برصغیر کو مسلم اور ہندو اکثریت کے علاقوں میں تقسیم کیا گیا تو افغانستان سے ملحقہ شمال مغربی سرحدی صوبے کے مسلمان عوام کی غالب اکثریت نے استصواب رائے میں پاکستان کا حصہ بننے کا انتخاب کیا اور سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست ہوگئی مگر باچا خان کے پیروکاروں نے یہ شکست خوش دلی سے تسلیم نہیں کی اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں تعصب کا نعرہ لگا کر ایک عرصے تک ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنے کی باتیں کرتے رہے۔

لر او بر (بالا اور زیریں، مشرقی و مغربی) افغانستان کے اتحاد کی مہم چلاتے رہے، یہاں تک کہ سال 1979 ء میں افغانستان میں سرخ پرچم اٹھائے سوویت یونین کی افواج نے مداخلت کی اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے افغانستان میں نمائشی سرخ انقلاب لے آئے تو گویا سرخ جھنڈے والی عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے پاکستان میں باچا خان کی باقیات کی دلی مراد بر آئی، افغانستان میں پاکستان مخالف تربیتی مراکز قائم ہوگئے، پشتو زبان میں باغیانہ مواد شائع ہو کر پاکستان آنے لگا اور باچا خان کی اولاد کھلم کھلا سرخ ٹینکوں پر بیٹھ کر ڈیورنڈ لائن کو کچلنے کی باتیں کرنے لگی اور ماسکو میں شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان کے ذریعے بحرعرب کے گرم پانیوں تک رسائی کے خواب دیکھے جانے لگے۔

مگر افغان قوم نے بیرونی جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے جارح اور قابض سوویت افواج اور ان کی کٹھ پتلیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔ مزاحمت میں شدت آئی تو بین الاقوامی طاقتیں متوجہ ہوئیں اور کمیونسٹ نظام کے خلاف 60 سال سے سرد جنگ میں مصروف مغرب و ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو امید کی ایک کرن دکھائی دی، چنانچہ انہوں نے موقع ضائع کئے بغیر اپنے دیرینہ دشمن اور وقت کی سوپر پاور سوویت یونین کے خلاف برسرپیکار نہتے افغانوں کی مدد کا فیصلہ کیا۔

یوں افغانستان میں ایک ایسا میدان جنگ سجا جس نے نہ صرف پاکستان میں سرخ انقلاب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، بلکہ سوویت یونین کو بھی ایسی کاری ضرب لگائی کہ ہزیمت، پسپائی اور بالآخر تباہی و بربادی سوویت یونین کا مقدر بنی اور مشرق و مغرب میں کمیونزم کا سورج ہی غروب ہوگیا۔ سوویت یونین کی اس شکست و ریخت کا اثر پاکستان میں کمیونسٹ یا سوشلسٹ تنظیموں پر بھی پڑا، جو اب لاوارث ہوگئی تھیں، اور انہوں نے بھی شدت پسند بیانیہ ترک کرکے مغربی جمہوری لبادہ اوڑھ لیا۔

سوویت یونین کی تباہی کے ساتھ وسط ایشیا کی مسلمان ریاستوں کو آزادی ملی اور یوں ڈیورنڈلائن کو ختم کرنے کا خواب دیکھنے والے نہ صرف افغانستان سے بے دخل ہوئے بلکہ افغانستان کے شمال میں 6 مسلمان ریاستوں کی آزادی کے بعد روس سکڑ کر ماسکو تک محدود ہوگیا اور افغانستان کے ساتھ اس کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

افغانستان سے سوویت یونین کی پسپائی اور خاتمہ نے مغربی سرمایہ دارانہ استعماری طاقتوں کو بے لگام کردیا اور انہوں نے خطہ پر اپنا تسلط قائم کرنے کے خواب دیکھنا شروع کردیئے اور ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت افغانستان اور مشرق وسطی کے مسلمان ممالک میں جنگوں اور خانہ جنگیوں کا ایک سلسلہ شروع کردیا گیا، گریٹ گیم کے نام سے مشہور ان جدید صلیبی جنگوں نے جہاں ایک طرف عراق، لیبیا، اور شام جیسے ترقی پذیر اور پرامن مسلمان ملک کو جنگ کی بھٹی میں جھونک کر مکمل طور پر تباہ و برباد کردیا، وہیں افغانستان اور یمن کے داخلی خلفشار میں جلتی پر تیل پھینک کر ایسی آگ لگائی کہ بجھنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

افغانستان کے معاملے میں یہ بات منفرد رہی کی ایک طرف سخت جان افغانوں نے بیرونی تسلط کے خلاف جدوجہد جاری رکھی، تو دوسری طرف پاکستان نے بھی اپنا کردار ادا کیا، یوں دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ بھی اپنے پیش رو سوویت یونین کی طرح افغانستان کے پہاڑوں سے زیادہ بلند حوصلہ رکھنے والے افغانوں کے سامنے سرنگوں ہو کر مذاکرات کی میز پر آ بیٹھا اور افغانستان میں جاری چالیس سالہ (امریکہ کے لئے 20 سالہ) جنگ کے خاتمے کے آثار پیدا ہوگئے۔

امن کے اس نئے امکان نے خطے کی سیاست پر بھی اثر ڈالا اور کل کے جانی دشمن باہم شیروشکر ہونے لگے، پاکستان اور روس کے درمیان کئی دہائیوں کی جمی برف پگھلنے لگی، چین اور ترکی نے اس معاملے میں پل کا کردار ادا کیا، اور چین سے پاکستان اور بحر عرب کے ساحل پر واقع دنیا کی سب سے گہری بندرگاہ گوادر کے راستے وسط ایشیا کے ممالک تک رسائی اور تیل و گیس کے ذخائر وسط ایشیا سے گوادر تک پہنچانے کے لئے محفوظ گزرگاہوں کی باتیں ہونے لگیں، اور اسی نئے امکان کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے جہاں افغانستان میں قیام امن کی ضرورت پر روز دیا جانے لگا وہیں یہ ضرورت میں محسوس ہوئی کہ اگر افغان باہمی رضامندی سے کسی امن فارمولے پر راضی نہیں ہوتے تو پھر وسط ایشیا کو پاکستان سے ملانے میں رکاوٹ بنے کانٹے کو ہی نکال دیا جائے۔

اس مقصد کے لیے واخان کی پٹی پر توجہ مرکوز ہوگئی، یہ پاکستان اور وسط ایشیا کے درمیان 50 سے 100 میل کے دشوار گزار پہاڑی دروں پر مشتمل افغان صوبے بدخشاں  کا وہ حصہ ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے علیحدہ کرتا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چین اور روس کی باہم رضامندی اور مدد سے پاکستان اور تاجکستان نے عالمی نقشے پر اس باریک سی لکیر کو مٹانے کو منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے، اور روس نے اس منصوبے پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے خطہ کا ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں واخان کی پٹی کا ایک حصہ غائب ہے، اور پاکستان کو براہ راست تاجکستان کے ساتھ ملا ہوا دکھایا گیا ہے۔

مصدقہ طور پر روسی وزارت خارجہ کے سرکاری ذرائع سے جاری کردہ اس نئے نقشے نے افغانستان کے اندر ایک بھونچال تو پیدا کیا ہی ہے مگر مغربی استعماری طاقتوں کے بھی کان کھڑے ہوگئے ہیں، بھارت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے، امریکہ اور اتحادی افغانستان سے انخلا کو موخر کرنے اور مزید قیام کی باتیں کرنے لگے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کب تک؟ کب تک کشمیر، گلگت اور چترال کو دوشنبہ سے دور رکھا جا سکے گا؟
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں