پاک، انگلینڈ ون ڈے! قومی کرکٹ ٹیم آج گلابی کٹ پہن کر میدان میں اترے گی مگر کیوں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے خواتین میں چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان آج بروز اتوار 25 اکتوبر کو لاہور میں کھیلے جانے والے ون ڈے انٹرنیشنل میچ کو خصوصی آگاہی مہم سے منسوب کر دیا ہے۔

اس موقع پر قومی کرکٹ ٹیم گلابی کٹ پہن کر میدان میں اترے گی جبکہ چھاتی کے سرطان میں مبتلا ان خواتین کی مالی معاونت کے لیے خصوصی شرٹس نیلام کی جائیں گی جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔

پی سی بی کے مطابق اس اقدام کا مقصد خواتین کو چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ اس مہم میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور پنک ربن مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

بابر اعظم اور شاہین آفریدی کی دستخط شدہ شرٹس کی نیلامی ہوگی

آگاہی مہم کے تحت قومی ٹیم کے اسٹار کرکٹرز بابر اعظم اور شاہین آفریدی کی دستخط شدہ فین شرٹس نیلامی کے لیے پیش کی جائیں گی۔ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ان مستحق خواتین کے علاج پر خرچ کی جائے گی جو مالی مشکلات کے باعث مناسب طبی سہولیات حاصل نہیں کر پاتیں۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ اس سرگرمی کے ذریعے کرکٹ شائقین کو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی دستخط شدہ شرٹس حاصل کرنے کے ساتھ ایک فلاحی مقصد میں حصہ لینے کا موقع بھی ملے گا۔

گلابی کٹ پہننے کا مقصد کیا ہے؟

قومی ٹیم کی جانب سے گلابی کٹ کا استعمال چھاتی کے سرطان سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کی علامت ہے۔ اس مہم کے ذریعے خواتین کو اپنی صحت پر توجہ دینے، بروقت طبی معائنہ کرانے اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص علاج کے مؤثر امکانات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اسی لیے طبی ماہرین خواتین کو اپنی صحت سے متعلق غیر معمولی تبدیلیوں کو نظرانداز نہ کرنے اور مستند طبی مشورہ لینے کی ہدایت کرتے ہیں۔

کرکٹ کے میدان سے صحت کا اہم پیغام

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لاہور میں ہونے والا یہ مقابلہ کھیل کے ساتھ ایک اہم سماجی پیغام بھی اجاگر کرے گا۔ پی سی بی اور پنک ربن کی مشترکہ مہم کے ذریعے نہ صرف چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی پھیلانے بلکہ مالی مشکلات کا شکار مریض خواتین کے علاج میں معاونت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس اقدام سے کرکٹ شائقین کو بھی اس پیغام کا حصہ بننے کا موقع ملے گا کہ بروقت تشخیص، علاج اور مستحق مریضوں کی مدد کے لیے اجتماعی کوششیں کس قدر اہم ہیں۔

Related Posts