جے شنکر کا تضحیک آمیز بیان اور بھارت کی بوکھلاہٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں سفارتکاری محض بیانات اور ملاقاتوں کا نام نہیں بلکہ ریاستوں کے وقار، حکمتِ عملی اور طویل المدتی مفادات کی  آئینہ دار ہوتی ہے۔ حالیہ ایران جنگ اور اس کے گرد گھومتی عالمی صف بندی نے ایک بار پھر یہ واضح کردیا کہ کون سے ممالک سنجیدہ سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں اور کون داخلی کمزوریوں  اور اپنی سفارتی تنہائیوں کو چھپانے کے لیے گھناؤنا اور سفارتی طور پر ناپسندیدہ  بیانیہ اختیار کرنے پر مجبور ہوچکا،  اس تناظر میں بھارت کا کردار نہ صرف ہزیمت آمیز  دکھائی دیتا ہے بلکہ سفارتی سطح پر  بھارتی حکومت کی ایک واضح پسپائی کا عکس بھی نظر آتا ہے، جو اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

ایران جنگ میں جہاں ایک طرف پاکستان، مصر اور ترکیہ جیسے ممالک متحرک ہو کر ایک قابلِ اعتماد ثالث ثابت ہونے کی راہ پر گامزن ہیں، وہیں بھارت اس پورے منظر نامے سے عملاً باہر دکھائی دیتا ہے۔ یہ صورت حال محض اتفاقیہ  نہیں بلکہ اس کے پیچھے طویل عرصے سے آر ایس ایس کے نفرتوں سے لبریز، زہر آلود تضادات پر مبنی بیانیے اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی کارفرما ہے اور  عالمی سطح پر کسی بھی تنازعے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ متعلقہ ریاست پر فریقین کو اعتماد ہو، لیکن بھارت اس بنیادی شرط پر پورا اترنے میں  یکے بعد دیگرے ناکامیاں سمیٹ  رہا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا حالیہ بیان اور پاکستان کے خلاف استعمال کی گئی انتہائی نازیبا   زبان اسی سفارتی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ  ایک ذمہ دار سفارتکار سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہایت نپی تلی اور مہذب زبان استعمال کرے، مگر آل پارٹیز اجلاس کے دوران ان کی جانب سے اختیار کی گئی غیر پارلیمانی اور بازاری زبان  کے استعمال نے نہ صرف ان کے ذاتی وقار کو متاثر کیا بلکہ بھارت کی ریاستی سنجیدگی پر بھی سوالات اٹھا دیے جن میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ کیا یہ بیان بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے آیا ہے یا پھر بھارتی گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرتے ہوئے کسی دو کوڑی کے  آر ایس ایس غنڈے نے پاکستان کو گالی دینے کی کوشش کی ہے؟ کیونکہ سفارتکاری میں الفاظ کا چناؤ محض لسانی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ خارجہ پالیسی کی سمت اور ذہنی کیفیت کی بھی عکاسی کرتا ہے، اور یہاں واضح طور پر بوکھلاہٹ غالب نظر آئی۔

یہ بوکھلاہٹ دراصل اس وسیع تر تنہائی کا نتیجہ ہے جس کا سامنا بھارت کو حالیہ عرصے میں کرنا پڑ رہا ہے۔ توانائی کے بحران، علاقائی تنازعات اور عالمی سطح پر بدلتی ترجیحات نے بھارت کو اپنی ہی پالیسیوں کی بناء پر ایک مشکل پوزیشن میں لاکھڑا کیا ہے۔ ایران جیسے اہم علاقائی کھلاڑی کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے میں ناکامی نے بھارت  کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ثالثی کے عمل کی بات آئی تو بھارت کو اس میں شامل کرنے کے بجائے دیگر ممالک کو ترجیح دی گئی جبکہ بھارت ایران سے اپنے آپ کو بہت قریب سمجھتا رہا ہے اور اس قربت کے فائدے بھی اٹھاتا رہا ہے۔

ایران جنگ کے تناظر میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 2، ذیلی شق 4 ایک بنیادی اصول کے طور پر سامنے آتا ہے، جو ریاستوں کو ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال سے روکتا ہے، مگر جب یہی اصول پامال کیے جائیں تو ردِعمل بھی بین الاقوامی قانون کے دائرے میں جنم لیتا ہے۔ ایران نے بھی اسی اصول کے تحت، آرٹیکل 51 میں دیے گئے حقِ دفاع کو بروئے کار لاتے ہوئے اسرائیلی و امریکی حملوں کا جواب دیا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی قوانین محض کتابی نہیں بلکہ عملی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔

سفارتکاری اگر دیانت، شفافیت اور اصولوں کے بجائے عیاری، مکاری اور وقتی مفادات کی بنیاد پر استوار کی جائے تو اس کا انجام سوائے عالمی و سفارتی تنہائی  کے کچھ نہیں ہوتا۔ عالمی برادری ایسے رویوں کو دیر تک برداشت نہیں کرتی، اور جب کسی ریاست کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے تو اس کی ساکھ تیزی سے زوال کا شکار ہوتی ہے۔  اور وہ قیادت جو اسرائیل کو اپنا “فادر لینڈ” قرار دے اور عالمی تنازعات میں کھلے تعصب کا مظاہرہ کرے، اسے بین الاقوامی سطح پر غیر جانبدار ثالث کے طور پر کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ایسے بیانیے نے نہ صرف بھارت کے سفارتی دعووں کو کمزور کیا بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک غیر سنجیدہ اور جانبدار فریق کے طور پر پیش کیا۔ نریندر مودی کی قیادت میں اپنایا گیا یہی زاویۂ نظر بالآخر عالمی محاذ پر پسپائی کا سبب بنا۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ سفارتکاری میں کامیابی صرف بیانات سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مستقل مزاجی، اعتماد سازی ، شفافیت اور اصولی موقف ضروری ہوتا ہے۔ جب کسی ریاست کی خارجہ پالیسی داخلی سیاسی بیانیے یا وقتی مفادات کے تابع ہو جائے تو اس کے نتائج عموماً منفی ہی برآمد ہوتے ہیں۔ بھارت کی موجودہ صورتحال بھی اسی حقیقت کی غمازی کرتی ہے۔

بلاشبہ موجودہ علاقائی و عالمی حالات نے ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے جس کے تحت ایک طرف وہ ممالک ہیں جو سنجیدہ، متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور دوسری طرف بھارت کی مثال سامنے رکھتے ہوئے وہ  ریاستیں ہیں جو بوکھلاہٹ، تضادات اور غیر مہذب بیانیے کے باعث خود کو تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ مستقبل کا عالمی منظرنامہ یقیناً انہی اصولوں کے گرد گھومے گا، جہاں پاکستان جیسی شفافیت، اعتماد اور سنجیدگی ہی کامیاب سفارتکاری کی بنیاد بنیں گے اور ان بنیادی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران، امریکا و اسرائیل جیسے مسائل کی بھی حل طلبی کی راہیں ہموار ہوسکیں گی۔

Related Posts