بجلی چوری روکنے کا انوکھا طریقہ! حکومت کا ٹرانسفارمرز پر ای پی ایم ایس لگانے کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی چوری کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو روکنے کے لیے خصوصی الیکٹرانک پاور مانیٹرنگ سسٹم (ای پی ایم ایس) نصب کیا جا رہا ہے جس کے تحت صرف چوری والے علاقوں کے ٹرانسفارمرز بند کیے جائیں گے تاکہ دیگر ایماندار صارفین بلا وجہ متاثر نہ ہوں۔

ڈیرہ غازی خان ائیرپورٹ کے توسیعی منصوبے کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ڈی جی خان ائیرپورٹ کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ساڑھے پانچ ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ جنوری 2028 تک پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی جی خان میں وزیرِ اعظم کے اعلانات کے تحت چار بڑے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن میں کینسر اسپتال کی تعمیر، سیوریج کے جدید نظام کی فراہمی اور سڑکوں کی کشادگی کے اہم منصوبے بھی شامل ہیں۔

ملک میں بجلی کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے واضح کیا کہ ملک بھر میں لوڈشیڈنگ طے شدہ شیڈول کے مطابق کی جا رہی ہے اور جن فیڈرز پر لائن لاسز 30 فیصد یا اس سے زائد ہیں وہاں بجلی کی کٹوتی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے عام اور باقاعدہ بل ادا کرنے والے صارفین کو بھاری بھرکم بلوں سے ریلیف فراہم کیا ہے تاہم بجلی چوری کرنے والوں اور بلوں کی ادائیگیاں نہ کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مشرق وسطیٰ (ایران اور امریکہ) کی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر گیس کی قلت پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نئے ای پی ایم (EPM) سسٹمز کے نفاذ سے بجلی چوری کو کنٹرول کرنا آسان ہو جائے گا اور قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں کو اس کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا۔

Related Posts