بھارت ایران جنگ پر ثالثی سے باہر، بھارتی وزیر خارجہ بازاری زبان پر اتر آئے

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی وزیر خارجہ
(فوٹو: دی ہندو)

بھارت ایران جنگ پر ثالثی کے عمل سے مکمل طور پر باہر ہوگیا، بھارتی وزیر خارجہ سفارتی آداب بھول کر بازاری زبان پر اتر آئے ہیں جو پاکستان کی کامیاب سفارتی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنی سفارتی ناکامیاں چھپانے کیلئے غیر پارلیمانی اور توہین آمیز زبان کا استعمال کیا۔ جے شنکر کا ردِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کو امریکا ایران ثالثی کے عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران جنگ روکنے کیلئے متحرک ہیں۔ تینوں ممالک ایک قابل اعتماد سفارتی پل کے طور پر ابھر کر دنیا کے سامنے آئے۔ موجودہ بھارتی حکمران ہر معاملے میں اپنے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت کی حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی کو بھارت کی عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شدت سے احساس ہے اور خاص طور پر بھارت میں پیدا ہونے والے توانائی بحران کے باعث بھی بھارتی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی اثر رسوخ طاقت سے نہیں، بلکہ اعتماد سے بنتا ہے، جے شنکر کے بیانات سے ان کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔ عالمی بحران کے حل میں پاکستان کا کردار ایک حقیقت ہے جسے جے شنکر کے بیانات ختم نہیں کرسکتے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز آل پارٹیز اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے جو زبان استعمال کی، اسے متعدد حلقوں نے غیر پارلیمانی و غیر سفارتی قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا یہ ردِ عمل اس وقت سامنے آیا جب مشرق وسطیٰ کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا کردار ابھر کر سامنے آیا۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے بھارت کا کردار نسبتاً کم نمایاں رہا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سفارتکاری میں زبان اور لب و لہجہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں، اور نامناسب بیانات سے نہ صرف داخلی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ایس جے شنکر نے کیا کہا؟

بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایس جے شنکر نے آل پارٹیز اجلاس کے دوران پاکستان کیلئے انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے۔ سوشل میڈیا پر جاری رپورٹس میں پاکستان کیلئے جن الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، انہیں مختلف ویڈیوز کے ذریعے سنا تو جاسکتا ہے، رپورٹ نہیں کیاجاسکتا۔

اجلاس کے دوران جب ایران جنگ کا ذکر آیا تو وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ ہم ۔۔۔ ملک نہیں ہوسکتے۔ امریکا پاکستان کا استعمال سال 1981 سے کرتا آرہا ہے۔ گودی میڈیا نے بھی جے شنکر کی ہی زبان کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر مختلف الزامات عائد کیے ہیں۔

Related Posts