ایک نان 40 روپے کا! تندور مالکان کی من مانیاں عروج پر، مریم حکومت خاموش تماشائی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

صوبائی دارالحکومت میں مہنگائی کے ستائے شہریوں پر ایک بار پھر بوجھ ڈال دیا گیا ہے جہاں تندور مالکان اور نان بائیوں نے نان کی قیمت میں پانچ روپے کا اضافہ کردیا ہے۔ نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد اب شہر میں نان 35 روپے میں فروخت ہو رہا ہے تاہم روٹی کی فی الوقت پرانی قیمت یعنی 20 روپے ہی برقرار رکھی گئی ہے۔

نان بائی ایسوسی ایشن اور تندور مالکان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نرخوں میں اضافے کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت میں ریکارڈ اضافہ ہے۔ شہر بھر میں سوئی گیس کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ شدید لوڈشیڈنگ نے تندوروں کا کاروبار متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے مجبورا مہنگے داموں ایل پی جی سلنڈر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ آٹے کی تیاری میں استعمال ہونے والے فائن میدے کی 80 کلوگرام والی بوری کی قیمت میں بھی ایک دم 3,000 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنا پر پرانے نرخوں پر کاروبار چلانا ناممکن ہو چکا تھا۔

شہر کی عام آبادیوں اور محلوں میں تو نان 35 روپے میں فروخت ہو رہا ہے تاہم کمرشل مارکیٹس اور پوش (الگ تھلگ اور مہنگے) علاقوں میں نان بائیوں نے اپنی اجارہ داری قائم کرتے ہوئے من مانے نرخ وصول کرنا شروع کر دیے ہیں جہاں نان کی قیمت 40 سے 45 روپے تک بھی وصول کی جا رہی ہے۔

نان اور روٹی جیسے بنیادی غذایی اشیا کی قیمتوں میں اس خود ساختہ اضافے کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی موثر کارروائی یا چیکنگ دیکھنے میں نہیں آئی۔ شہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کیا جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے عوام کو اس اضافی مہنگائی کے بوجھ سے کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Related Posts