رواں برس 13 فروری کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو وائٹ ہاؤس پہنچے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایک ایسا جنگی منصوبہ رکھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی چند ہی روز میں مکمل کی جاسکتی ہے، ایرانی سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد خطے میں طاقت کا توازن اسرائیل اور امریکا کے حق میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
یہ کوئی منصوبہ نہیں بلکہ وہ سبز باغ تھے جو امریکا کو دکھائے گئے اور امریکی صدر اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے راضی ہوگئے ۔ دراصل اس منصوبے میں واشنگٹن کو یقین دلایا گیا کہ اگر امریکا مکمل تعاون کرے تو ایران زیادہ دیر مزاحمت نہیں کرسکے گا، تاہم عملی صورتحال اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئی۔ جنگ طویل ہوتی گئی، نقصانات و اخراجات بڑھتے گئے اور امریکی قیادت کو اندازہ ہوا کہ جس جنگ کو چند دنوں کی کارروائی سمجھا گیا تھا، وہ ایک پیچیدہ اور مہنگا تنازعہ بن چکی ہے۔ بعد ازاں اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی قیادت سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو کے سبز باغ دکھانے والے منصوبے پر خفگی ظاہر کی کیونکہ اس منصوبے کے برعکس امریکا کو سیاسی، عسکری اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس بالآخر ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کے سوا کوئی مؤثر راستہ نہیں بچا تھا۔ یہ صورتحال اس لیے غیر معمولی سمجھی جارہی ہے کیونکہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت مانا جاتا ہے، مگر ایران کے خلاف طویل کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے باوجود وہ اپنے تمام سیاسی اور عسکری اہداف حاصل نہ کرسکا۔ اس دوران اربوں ڈالر کے اخراجات، خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بے یقینی نے واشنگٹن کو یہ احساس دلایا کہ صرف عسکری طاقت کے ذریعے یہ جنگ جیتنا ناممکن ہے۔
بعد ازاں پاکستان اور پھر قطر کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان ماحول میں نسبتاً بہتری پیدا ہوئی اور دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری شدید کشیدگی میں ایک اہم موڑ قرار دیا گیا کیونکہ اس نے نہ صرف جنگ بندی کی امید پیدا کی بلکہ یہ تاثر بھی مضبوط کیا کہ خطے کے بڑے تنازعات اب صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سفارت کاری کے ذریعے بھی حل کیے جاسکتے ہیں۔ بہت سے مبصرین کے مطابق اس جنگ نے عالمی طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے اور یہ بحث مزید زور پکڑ گئی کہ دنیا کا طاقت کا مرکز آہستہ آہستہ گلوبل نارتھ سے گلوبل ساؤتھ کی جانب منتقل ہورہا ہے۔
یہی نہیں، بلکہ اس جنگ کے نتائج نے دنیا بھر کے سیاسی اور عسکری حلقوں کو حیران کردیا کیونکہ ایک طرف ایران کو انسانی اور مادی لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ مختلف اندازوں کے مطابق تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار عمارتیں تباہ ہوئیں جبکہ لگ بھگ چار ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، تو دوسری جانب ایران نے اپنی عسکری صلاحیت اور جوابی کارروائیوں کے ذریعے یہ تاثر قائم کیا کہ وہ شدید دباؤ کے باوجود اپنی دفاعی حکمت عملی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے متعدد تجزیہ کاروں نے یہ رائے دی کہ ایران اب صرف معاشی مشکلات سے دوچار ایک ترقی پذیر ملک نہیں بلکہ ایک ایسی علاقائی طاقت بن کر ابھرا ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
اس تنازعے کا ایک اہم پہلو ان ممالک پر بھی اثر انداز ہوا جنہوں نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ کئی خلیجی ریاستوں کو براہ راست یا بالواسطہ سکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے بارے میں یہ تاثر سامنے آیا کہ جنگی ماحول نے اس کی معاشی رفتار کو نمایاں طور پر متاثر کیا اور اگر یہ تنازعہ مزید طویل ہوجاتا تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوسکتے تھے۔ اس صورتحال نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وہ فوجی اڈے جو خلیجی ممالک کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے تھے، کیا وہ خود اپنی حفاظت اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب رہے؟
اگرچہ ایم او یو پر دستخط کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کی جانب بڑھیں گے، مگر حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر اس مفروضے کو چیلنج کردیا ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے صرف چند دن بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک مرتبہ پھر براہ راست فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس کی ابتدا آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی مال بردار جہاز پر ڈرون حملے سے ہوئی، جس کا الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر عائد کیا۔ واشنگٹن نے اس واقعے کو جنگ بندی اور مفاہمت کی روح کے خلاف قرار دیا اور امریکی سینٹ کام کے بیان کے مطابق فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوج نے ایران میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں امریکی فوج نے ان کارروائیوں کی ویڈیو بھی جاری کی اور دعویٰ کیا کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے تھے اور ان کا مقصد مستقبل کے ممکنہ حملوں کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی واضح الفاظ میں کہا کہ اگر امریکی مفادات یا افواج کو نشانہ بنایا گیا تو “تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔”
ایران نے ان حملوں کو نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا بلکہ یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کے باوجود طاقت کا استعمال دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع شہر سیریک کے نزدیک ایک مقام پر گولہ گرا جبکہ جزیرہ قشم کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم مقامی حکام کا کہنا تھا کہ بندرگاہ کو کوئی نمایاں نقصان نہیں پہنچا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو ہدف بھی بنایا ہے، اگرچہ اس اعلان کے فوری بعد امریکی اہداف پر کسی کامیاب حملے کی تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم اس اعلان سے تہران نے واضح کیا کہ وہ ایسے حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نگرانی اور قواعد نافذ کرنے کا اختیار ایران کے پاس ہے، لہٰذا اس آبی گزرگاہ میں ہونے والی سرگرمیوں کو ایران کی خودمختاری کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
یہاں ایک بار پھر آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بن گئی اور اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے زور دیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو مسلسل کھلا رہنا چاہیے اور تمام فریقوں کو اپنے کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ دوسری جانب تہران سے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی براہ راست فوجی رابطہ قائم ہوچکا ہے۔
اسی دوران ایک اور اہم سفارتی پیش رفت لبنان اور اسرائیل کے درمیان سامنے آئی، جہاں امریکی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا۔ واشنگٹن کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ ہے، تاہم حزب اللہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ صرف اسرائیلی مفادات کو تقویت دے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے میں اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے بجائے صرف مرحلہ وار دوبارہ تعیناتی کی بات کی گئی ہے، جس کے باعث لبنان کے اندر بھی اس پر شدید اختلافات دیکھنے میں آرہے ہیں۔
ان تمام تازہ ترین واقعات کے بعد سب سے اہم سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران اور امریکا دوبارہ مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ تو سفارتی ذرائع اب بھی یہی اشارہ دے رہے ہیں کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر نپے تلے حملے کرکے حساب برابر کردیا ہے ۔ اس وقت فریقین مذاکرات کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں ، اور نوشتہ دیوار یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو خوب اندازہ ہے کہ مفاہمت کا راستہ اختیار نہ کرنے پر لوگ معاشی مصیبت میں دوبارہ مبتلا ہوں گے، جسکی وجہ سے وہ مڈ ٹرم الیکشن میں شکست کی جانب چلے جائیں گے جو بالآخر صدر کے مواخذے سمیت دیگر قانونی کارروائیوں کا پیام لائے گا، اس لیے جنگ کا خاتمہ اور مستقل جنگ بندی ہی اس خطے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تقدیر بنے گی اور ایران کو بھی سکھ کا سانس نصیب ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں
