بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں نوراتری کے مذہبی تہوار کے دوران شیتلا ماتا مندر کے قریب پیش آنے والے ہولناک ٹرک حادثے میں 15 ہندو یاتری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد بھاری گاڑیوں کے لیے ممنوعہ راستے پر ٹرک کی آمدورفت اور گوگل میپس کے ممکنہ شارٹ کٹ کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ اتوار کی علی الصلیٰ تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آیا جب دھان سے لدا ٹرک ڈھلوان پر بے قابو ہوکر زائرین سے جا ٹکرایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈرائیور راستے سے پوری طرح واقف نہیں تھا اور ممکنہ طور پر گوگل میپس کی جانب سے دکھائے گئے متبادل راستے پر چلا گیا تھا، جہاں بھاری گاڑیوں کا داخلہ ممنوع تھا تاہم گوگل میپس کے راستے کو حادثے کی وجہ قرار دینے کی سرکاری تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔
پولیس کے مطابق ٹرک نے راستے میں لگائی گئی رکاوٹیں عبور کیں اور سڑک پر موجود عقیدت مندوں کو کچلنے کے بعد سڑک کنارے دکانوں سے ٹکرایا۔ ٹرک بالآخر مندر کے اندرونی گیٹ سے جا ٹکرایا۔
حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بھاری گاڑی پابندی کے باوجود اس راستے پر کیسے پہنچی اور حفاظتی انتظامات پر مؤثر عمل درآمد کیوں نہ ہوسکا۔ حادثے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں ڈیوٹی پر موجود دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
حادثے کے بعد انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات اور متعلقہ اہلکاروں کی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق علاقے کے سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سی ایس پی) کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ آٹھ پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔
حکام کی جانب سے یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ ممنوعہ راستے پر بھاری ٹریفک کی نگرانی میں کہاں کوتاہی ہوئی اور حفاظتی رکاوٹیں ٹرک کو آگے بڑھنے سے روکنے میں کیوں ناکام رہیں۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے حادثے میں ملوث ٹرک کے ڈرائیور اور مالک کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات، ممکنہ غفلت اور متعلقہ افراد کی ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے۔
نوراتری کے دوران پیش آنے والے اس سانحے نے مذہبی اجتماعات کے مقامات کے اطراف ٹریفک کنٹرول اور بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت کے انتظامات پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








