سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی کام کرنے والی کوانٹم بیٹری کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا ہے، جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا حجم بڑھنے کے ساتھ چارج ہونے کی رفتار بھی بڑھتی ہے۔ روایتی بیٹریوں کے برعکس یہ کیمیائی تعاملات کے بجائے کوانٹم اثرات سے فائدہ اٹھاتی ہے۔
آسٹریلیا کی سی ایس آئی آر او سے وابستہ جیمز کواچ اور ان کی ٹیم نے مارچ 2026 میں اس پیش رفت کا مظاہرہ کیا۔ پروٹوٹائپ میں تقریباً 100 نینو میٹر کے فاصلے پر دو آئینوں کے درمیان نامیاتی رنگ کے مالیکیولز رکھ کر لیزر استعمال کیا گیا۔ کوانٹم اثرات کے باعث مالیکیولز اجتماعی طور پر توانائی جذب کرتے ہیں، جسے سپر ابزورپشن کہا جاتا ہے۔ نتیجتاً زیادہ مالیکیولز زیادہ تیزی سے توانائی جذب کرتے ہیں۔
پروٹوٹائپ نے توانائی فیمٹو سیکنڈز میں جذب کی اور اسے نینو سیکنڈز تک برقرار رکھا۔ تاہم موجودہ نظام انتہائی معمولی مقدار میں توانائی ذخیرہ کرتا ہے، اس لیے یہ موبائل فون یا گاڑیوں کے لیے ابھی قابلِ استعمال نہیں۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا ابتدائی استعمال کوانٹم کمپیوٹرز میں ہوسکتا ہے۔ سائنسدان ایسے ہائبرڈ ڈیزائن پر بھی کام کر رہے ہیں جو تیز کوانٹم چارجنگ اور طویل مدتی توانائی ذخیرہ کرنے کو یکجا کرے۔ تاہم ذخیرہ شدہ توانائی کو مؤثر اور قابو میں رہنے والی شکل میں واپس حاصل کرنا اب بھی بڑا چیلنج ہے۔
خیال رہے کہ روایتی بیٹری میں اجزا نسبتاً انفرادی طور پر کام کرتے ہیں، جبکہ کوانٹم بیٹری میں متعدد مالیکیول کوانٹم اثرات کے ذریعے اجتماعی طور پر توانائی جذب کرسکتے ہیں، جس سے چارجنگ پاور میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہوتا ہے۔
موجودہ پروٹوٹائپ کو لیزر سے وائرلیس طور پر چارج کیا گیا اور اس نے چارج، ذخیرہ اور ڈسچارج کے تینوں مراحل مکمل کیے۔ مستقبل میں یہی تصور بیٹریوں تک انتہائی تیز وائرلیس رسانی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








