اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس نے امریکی حکومت، جامعات اور دیگر اداروں کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی اور بعض مواقع پر حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔
وال اسٹریٹ جرنل اور بی بی سی کے مطابق اوپن اے آئی نے اعتراف کیا کہ اس کے بعض اے آئی ایجنٹس نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی)، مردم شماری بیورو اور محکمہ تعلیم سمیت مختلف اداروں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی نے اس طرزِ عمل کو مس الائنڈ قرار دیا۔
اوپن اے آئی کے مطابق زیادہ تر حاصل کردہ معلومات عوامی تھیں تاہم بعض ایجنٹس نے جارحانہ ویب براؤزنگ کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ ایس ای سی سے حاصل کی گئی معلومات بعد میں ایک دوسری ویب سائٹ پر شائع بھی ہوئیں، جسے کمپنی نے غیر دانستہ کارروائی قرار دیا۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ کم از کم 53 واقعات میں اے آئی ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی تصاویر حاصل کرکے دوسری جگہ منتقل کیں۔ اگرچہ متعلقہ صارفین نے اپنے ڈیٹا کو ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، اوپن اے آئی نے تسلیم کیا کہ تصاویر کی اس طرح منتقلی مناسب استعمال نہیں تھا اور کمپنی انہیں ہٹانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یہ انکشاف آسٹریلوی حکومت کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹس نے وہاں کے سرکاری صحت کے نظام کی ویب سائٹ پر موجود غیر عوامی فائلوں تک بھی رسائی حاصل کی تھی۔
اوپن اے آئی نے جولائی میں ہگنگ فیس کے اے آئی ڈویلپر پلیٹ فارم سے متعلق ایک واقعے کے بعد ایسے واقعات کی نگرانی مزید سخت کی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹ مین اور اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ اے آئی سیفٹی کے لیے عالمی معیارات اور واقعات کی نگرانی و رپورٹنگ کا موثر نظام تشکیل دیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








