شہباز حکومت میں مہنگائی کا نیا ریکارڈ؟ 22 دن میں پیٹرول 51، ڈیزل 52 روپے مہنگا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

شہباز حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 61 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 75 پیسے فی لیٹر ہوگئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 96 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 422 روپے 8 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ردوبدل کے بعد ستمبر کے صرف 22 روز میں پٹرول کی قیمت مجموعی طور پر 50 روپے 96 پیسے فی لیٹر بڑھ چکی ہے جبکہ ڈیزل بھی 51 روپے 67 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا ہے۔

یکم ستمبر کو پٹرول 342 روپے 79 پیسے فی لیٹر تھا جو 22 ستمبر کو بڑھ کر 393 روپے 75 پیسے ہوگیا۔ اس طرح پٹرول کی قیمت میں 22 روز کے دوران تقریباً 51 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

اسی طرح یکم ستمبر کو ڈیزل 370 روپے 41 پیسے فی لیٹر تھا جو اب 422 روپے 8 پیسے تک پہنچ چکا ہے۔ یوں ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 51 روپے 67 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

ستمبر میں پٹرول کی قیمت میں سب سے بڑا اضافہ 8 ستمبر کو 12 روپے 90 پیسے فی لیٹر کیا گیا جب قیمت 345 روپے 87 پیسے سے بڑھ کر 358 روپے 77 پیسے ہوگئی۔

اس کے بعد 9 ستمبر کو پٹرول 5 روپے 58 پیسے، 10 ستمبر کو 3 روپے 40 پیسے، 11 ستمبر کو 3 روپے 5 پیسے، 12 ستمبر کو 5 روپے 2 پیسے، 15 ستمبر کو 4 روپے 42 پیسے، 16 ستمبر کو 4 روپے 10 پیسے اور 17 ستمبر کو 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔

اگرچہ اس دوران پٹرول کی قیمت میں کچھ کمی بھی ہوئی۔ 5 ستمبر کو پٹرول 3 روپے 13 پیسے سستا کیا گیا جبکہ 18 اور 19 ستمبر کو بھی معمولی کمی ہوئی تاہم مجموعی طور پر قیمت میں ہونے والا اضافہ ان کمیوں پر بھاری رہا۔

ڈیزل کی قیمت میں بھی ستمبر کے دوران کئی بڑے اضافے کیے گئے۔ 10 ستمبر کو ڈیزل 6 روپے 72 پیسے، 15 ستمبر کو 6 روپے 10 پیسے، 16 ستمبر کو 6 روپے 41 پیسے اور 17 ستمبر کو 5 روپے 62 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔

22 ستمبر کے تازہ فیصلے میں اگرچہ ڈیزل 1 روپے 96 پیسے سستا کیا گیا لیکن یکم ستمبر کے مقابلے میں اس کی قیمت اب بھی 51 روپے 67 پیسے فی لیٹر زیادہ ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں مقامی قیمتوں میں کمی محدود رہتی ہے جبکہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نسبتاً تیزی سے صارفین کو منتقل کردیا جاتا ہے۔

ستمبر کے صرف 22 روز میں پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 51 روپے فی لیٹر کا اضافہ اس صورتحال کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ پٹرول کی موجودہ قیمت 393 روپے 75 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔

Related Posts