قصور میں 25 لڑکیوں کی مبینہ نازیبا ویڈیوز اور بلیک میلنگ کے معاملے نے جون میں ملک بھر میں تشویش پیدا کی تھی۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سائبر کرائم حکام نے تحقیقات شروع کیں، جبکہ آن لائن ہراسانی اور قابل اعتراض مواد کے ذریعے بلیک میلنگ کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کر دی گئیں۔
ذرائع کے مطابق قصور اسکینڈل کے حوالے سے تحقیقات میں مبینہ طور پر ملوث افراد، ڈیجیٹل شواہد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا۔ حکام کی جانب سے موبائل فونز، سوشل میڈیا ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کا عمل جاری رکھا گیا۔
قصور: 25 لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز کا اسکینڈل سامنے آگیا، ہوشربا تفصیلات
دوسری جانب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے پنجاب کے مختلف شہروں میں آن لائن بلیک میلنگ اور خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف متعدد کارروائیاں کیں۔ لاہور، فیصل آباد اور ملتان سے ایسے ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن پر خواتین کو دھمکانے، قابل اعتراض مواد کے ذریعے بلیک میل کرنے اور تصاویر و ویڈیوز پھیلانے کے الزامات ہیں۔
سائبر کرائم ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں متاثرہ افراد کی شکایات، ڈیجیٹل فرانزک اور سوشل میڈیا ریکارڈ انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکام نے شہریوں خصوصاً خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی آن لائن بلیک میلنگ یا ہراسانی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔
قصور اسکینڈل کے حوالے سے اب بھی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








