قصور: 25 لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز کا اسکینڈل سامنے آگیا، ہوشربا تفصیلات

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

ضلع قصور کے علاقے قبر کوٹ، تھانہ کھڈیاں کی حدود میں مبینہ ہنی ٹریپ، بلیک میلنگ اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں چند نوجوانوں پر متعدد خواتین اور لڑکیوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ویب سائٹ ’’پنجاب پوسٹ‘‘ کے مطابق پانچ نوجوان گزشتہ تین برس سے مبینہ طور پر درجنوں لڑکیوں کو دوستی اور محبت کا جھانسہ دے کر ان کی آڈیوز، ویڈیوز اور تصاویر حاصل کرتے رہے اور بعد ازاں انہیں بلیک میل کرتے رہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں کی تعداد 25 جبکہ مبینہ طور پر تین ہزار سے زائد آڈیوز، ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والی ایک متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ پہلے جذباتی تعلق قائم کیا جاتا، پھر گفتگو کی ریکارڈنگ کے ذریعے دباؤ ڈال کر تنہائی میں بلایا جاتا اور مزید نازیبا مواد بنا کر مسلسل بلیک میل کیا جاتا تھا۔

ایک اور لڑکی نے بھی دعویٰ کیا کہ اسے دوسری متاثرہ خاتون کی ویڈیوز بھیج کر دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے مطالبات نہ مانے تو اس کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق مبینہ ملزمان نے اپنے گھر میں کیمرے نصب کر رکھے تھے جبکہ موبائل فون کے ذریعے اسکرین ریکارڈنگ کا بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

دوسری جانب متعلقہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں اب تک کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی، اس لیے قانونی کارروائی کا آغاز نہیں کیا جا سکا۔

متاثرہ لڑکیوں کا مؤقف ہے کہ سماجی بدنامی اور خاندان کی عزت کے خدشات کے باعث وہ پولیس سے رجوع کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔

علاقہ مکینوں نے پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ خبر میں شامل الزامات متعلقہ متاثرین اور مقامی ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔

Related Posts