بچوں کا ب فارم بنواتے وقت والدہ کے شناختی کارڈ سے متعلق شہریوں کی الجھن دور کرنے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اہم وضاحت جاری کردی ہے۔
نادرا حکام کے مطابق اس معاملے میں اصل فرق یہ ہے کہ والدہ کا شناختی کارڈ پہلے سے بنا ہوا ہے لیکن دستیاب نہیں یا ان کا شناختی کارڈ اب تک جاری ہی نہیں ہوا۔
نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے ادارے کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں صورتوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے کیونکہ بچے کے ب فارم کے اجرا کے لیے شناختی اور خاندانی ریکارڈ کی حیثیت اہم ہوتی ہے۔
ترجمان کے مطابق اگر والدہ کا شناختی کارڈ پہلے سے موجود ہے لیکن اس وقت انکے پاس دستیاب نہیں، تو عموماً اس وجہ سے ب فارم بنوانے میں کوئی بڑی رکاوٹ پیش نہیں آتی۔ ایسی صورت میں والدہ کا شناختی کارڈ نمبر فراہم کرکے یا بائیومیٹرک تصدیق یعنی انگوٹھے کے نشانات کے ذریعے، ان کی شناخت کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
اگر والدہ کا قومی شناختی کارڈ کبھی جاری ہی نہیں ہوا اور نادرا کے نظام میں ان کا متعلقہ ریکارڈ بھی موجود نہیں تو بچے کی رجسٹریشن کا عمل پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ اسکی وجہ خاندانی معلومات اور شادی کے اندراج سے متعلق ریکارڈ کی ضرورت ہے۔
نادرا حکام کے مطابق والدہ کی شناخت اور متعلقہ خاندانی ریکارڈ مکمل نہ ہونے کی صورت میں شادی کے اندراج اور خاندان سے متعلق معلومات کی تصدیق میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں فیملی نمبر (Family Number) کے اجرا میں بھی رکاوٹ آسکتی ہے جو بچے کے ب فارم کے حصول کے لیے اہم ہے۔
شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ ب فارم بنوانے سے پہلے والدین کے شناختی کارڈ اور خاندانی ریکارڈ کی موجودہ حیثیت معلوم کرلیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔ اگر والدہ کا شناختی کارڈ کبھی نہیں بنا تو متعلقہ دستاویزات اور طریقۂ کار کے بارے میں نادرا سے براہِ راست رہنمائی حاصل کرنا مناسب ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








