چہرہ خشک، ہونٹ پھٹے اور ہاتھ کھردرے؟ سردیوں میں نرم و ملائم جلد کیلئے آزمائیں یہ آسان ٹپس

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سردیوں کی آمد جہاں خوشگوار موسم کا احساس دلاتی ہے وہیں جلد کی خشکی، چہرے پر کھنچاؤ، ہاتھوں کی کھردراہٹ اور ہونٹ پھٹنے جیسے مسائل بھی بڑھنے لگتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوائیں اور فضا میں نمی کی کمی جلد کی قدرتی نمی کو متاثر کرسکتی ہے جس سے جلد بے رونق، خشک اور حساس محسوس ہونے لگتی ہے تاہم روزمرہ کی چند آسان عادات اپنا کر جلد کو خشک موسم کے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ مناسب صفائی، موئسچرائزر کا باقاعدہ استعمال اور دھوپ سے بچاؤ جلد کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سردیوں میں جلد کی حفاظت کے لیے 7 مفید ٹپس

1۔ چہرہ دھونے کے لیے نیم گرم پانی استعمال کریں

سرد موسم میں بہت گرم پانی سے منہ دھونا یا نہانا سکون تو دیتا ہے، لیکن اس سے جلد کی قدرتی چکنائی کم ہوسکتی ہے۔ نتیجتاً جلد خشک، کھردری اور حساس ہونے لگتی ہے۔

بہتر ہے کہ چہرہ دھونے کے لیے نیم گرم پانی استعمال کریں اور ایسا نرم فیس واش منتخب کریں جو جلد کو زیادہ خشک نہ کرے۔ چہرہ دھونے کے بعد تولیے سے رگڑنے کے بجائے آہستگی سے تھپتھپا کر خشک کریں۔

2۔ موئسچرائزر کو روزمرہ معمول کا حصہ بنائیں

سردیوں میں جلد کو نمی فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ چہرہ دھونے یا نہانے کے فوراً بعد موئسچرائزر لگانے سے جلد میں نمی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

خشک جلد کے لیے کریم کی شکل میں موئسچرائزر بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔

حساس جلد کے لیے خوشبو سے پاک مصنوعات استعمال کریں۔

ہاتھ دھونے کے بعد بھی ہینڈ کریم لگانے کی عادت اپنائیں۔

اگر جلد بہت خشک رہتی ہے تو ایسا موئسچرائزر منتخب کریں جس میں سیرامائڈز یا گلیسرین جیسے اجزا شامل ہوں۔

3۔ سردیوں میں بھی سن اسکرین لگائیں

یہ سمجھنا درست نہیں کہ سن اسکرین صرف گرمیوں میں ضروری ہوتی ہے۔ سردیوں میں بھی سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، خصوصاً جب آپ طویل وقت باہر گزاریں۔

گھر سے باہر نکلنے سے پہلے کم از کم ایس پی ایف 30 والی براڈ اسپیکٹرم سن اسکرین استعمال کریں۔ اگر آپ زیادہ دیر باہر رہیں تو اسے تقریباً ہر دو گھنٹے بعد، اور پسینہ آنے یا منہ دھونے کے بعد دوبارہ لگائیں۔

4۔ بار بار اسکرب کرنے سے گریز کریں

جلد کو چمکدار بنانے کے لیے بار بار اسکرب کرنا بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ سخت اسکرب اور ضرورت سے زیادہ ایکسفولی ایشن جلد کی حفاظتی تہہ کو متاثر کرکے جلن، سرخی اور خشکی بڑھا سکتی ہے۔

سردیوں میں نرم صفائی کو ترجیح دیں۔ اگر جلد پہلے ہی خشک، حساس یا خارش زدہ ہے تو اسکرب اور دیگر تیز اثر رکھنے والی مصنوعات کا استعمال روک دیں، جب تک جلد بہتر نہ ہوجائے۔

5۔ ہونٹوں کو پھٹنے سے بچانے کے لیے لپ بام لگائیں

سرد ہواؤں میں ہونٹوں کی جلد جلدی خشک ہوسکتی ہے کیونکہ یہ جسم کے دیگر حصوں کی جلد کے مقابلے میں زیادہ نازک ہوتی ہے۔

دن میں کئی مرتبہ لپ بام لگائیں۔

خوشبو اور جلن پیدا کرنے والے اجزا سے پاک بام منتخب کریں۔

باہر نکلتے وقت ایس پی ایف والا لپ بام استعمال کریں۔

ہونٹوں کو بار بار چاٹنے اور خشک جلد کھینچ کر اتارنے سے گریز کریں۔

اگر ہونٹ بہت زیادہ پھٹ رہے ہوں تو سادہ پیٹرولیم جیلی بھی نمی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

6۔ ہاتھوں اور جسم کی جلد کا بھی خیال رکھیں

سردیوں میں صرف چہرے پر توجہ دینا کافی نہیں۔ ہاتھوں، کہنیوں، گھٹنوں اور پنڈلیوں کی جلد بھی خشک ہوسکتی ہے۔

نہانے کے بعد جسم پر موئسچرائزنگ کریم یا لوشن لگائیں۔ نہانے کا دورانیہ مختصر رکھیں اور بہت گرم پانی سے گریز کریں۔ برتن دھوتے یا صفائی کرتے وقت دستانے پہننے سے بھی ہاتھوں کو پانی اور صفائی کے کیمیکلز کے مضر اثرات سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

7۔ پانی، متوازن غذا اور کمرے کی نمی کا خیال رکھیں

جلد کی دیکھ بھال صرف بیرونی مصنوعات تک محدود نہیں۔ مناسب مقدار میں پانی پینا، متوازن غذا کھانا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔

اگر گھر یا دفتر کی ہوا بہت خشک ہو تو ہیومیڈیفائر استعمال کرنے سے ماحول میں نمی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے تاہم اس آلے کی باقاعدہ صفائی ضروری ہے تاکہ اس میں جراثیم یا پھپھوندی نہ پھیلے۔

کن علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟

اگر جلد کی خشکی مسلسل برقرار رہے، شدید خارش ہو، جلد پھٹنے لگے، خون آئے یا زخم بن جائیں تو اسے محض موسم کا اثر سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ایسی صورت میں جلد کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ بعض اوقات ایگزیما یا جلد کی دیگر بیماریوں میں بھی ایسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

نتیجہ

سردیوں میں صحت مند اور نرم جلد برقرار رکھنے کے لیے مہنگی مصنوعات سے زیادہ اہم مستقل اور درست دیکھ بھال ہے۔ نیم گرم پانی، مناسب موئسچرائزر، سن اسکرین اور ہونٹوں و ہاتھوں کی حفاظت کو روزمرہ معمول میں شامل کرکے جلد کو خشکی سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈسکلیمر: یہ مضمون صرف عمومی معلومات اور آگاہی کے لیے ہے، اسے طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہ سمجھا جائے۔ جلد کی شدید یا مسلسل تکلیف کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

Related Posts