دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے نئے ریکارڈ قائم، اقوامِ متحدہ کا اظہارِ تشویش

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے نئے ریکارڈ قائم، اقوامِ متحدہ کا اظہارِ تشویش

جنیوا: دنیا بھرمیں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کے نت نئے ریکارڈز قائم ہونے لگے جس پر اقوامِ متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے کہا کہ آج کی ماحولیاتی صورتحال کی رپورٹ ماحول کے خلل سے نمٹنے میں انسانیت کی ناکامی ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

افغان خواتین میں خودکشی کے رجحان میں تشویشناک اضافہ

ٹوئٹر پیغام میں جنرل سیکریٹری نے کہا کہ یہ رپورٹ ایک مایوس کن بیان ہے۔ عالمی برادری کو اپنے واحد گھر یعنی زمین کو جلانے سے قبل فوسل فیول کی آلودگی ختم کرنا اور قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی تیز کرنا ہوگی۔ 

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے آج پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اہم اشاروں یعنی گرین ہاؤس گیسز اور سمندر کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈبلیو ایم او کی رپورٹ میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے 4 اہم اشارے ہیں جن میں سمندر کی گرمی اور سمندری تیزابیت بھی شامل ہیں۔ 2021 کے دوران چاروں پہلوؤں سے نئے ریکارڈز قائم ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سیکڑوں ارب ڈالر کے معاشی نقصانات جنم لے رہے ہیں۔ انسانی جانوں، معاشرتی فلاح و بہبود اور تحفطِ خوراک کو نقصان پہنچا۔

سیکریٹری جنرل ڈبلیوایم او پروفیسر پٹیری کا کہنا ہے کہ ہمارا ماحول ہماری آنکھوں کے سامنے تبدیل ہورہا ہے۔ گرین ہاؤس اثر کے باعث اگلی کئی نسلوں اورصدیوں تک زمین گرم رہے گی۔

پروفیسر پٹیری نے کہا کہ سمندروں کی سطح بڑھ جائے گی، سمندری پانی کی گرمی اور تیزابیت صدیوں تک جاری رہے گی۔  گلیشئرز پگھلنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو تشویشناک ہے۔ 

 

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں