امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی دو خواتین یاسمین انصاری اور لطیفہ سائمن نے کامیابی حاصل کرکے ایوانِ نمائندگان میں اپنی نشستیں برقرار رکھ لی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی کامیابی کو امریکی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یاسمین انصاری ایریزونا کے تیسرے جبکہ لیٹیفہ سائمن کیلیفورنیا کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے دوبارہ منتخب ہوئی ہیں۔
یاسمین انصاری کا سیاسی سفر
7 اپریل 1992 کو پیدا ہونے والی ایرانی نژاد امریکی سیاست دان یاسمین انصاری نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 2008 میں باراک اوباما کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور بعد ازاں سابق امریکی اسپیکر نینسی پیلوسی کے دفتر میں انٹرن شپ بھی کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے دفتر سے وابستہ ہوئیں، جہاں پیرس ماحولیاتی معاہدے سمیت اہم پالیسی امور پر کام کیا۔ بعد میں انہوں نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے دور میں بھی خدمات انجام دیں۔
یاسمین انصاری 2021 میں فینکس سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔ اس دوران انہوں نے شدید گرمی سے نمٹنے، شجرکاری اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اقدامات کی حمایت کی۔ 2024 میں انہوں نے کانگریس کا انتخاب جیت کر امریکی سیاست میں اپنی جگہ بنائی۔ وہ نومبر 2024 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نئے منتخب ارکان کی صدر بھی منتخب ہوئیں۔
لطیفہ سائمن: نابینائی کے باوجود کامیابیوں کا سفر
کیلیفورنیا سے دوبارہ منتخب ہونے والی لطیفہ عالیہ سائمن امریکی کانگریس کی پہلی مسلم رکن ہیں جن کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے۔ 29 جنوری 1977 کو سان فرانسسکو میں پیدا ہونے والی سائمن پیدائشی طور پر دونوں آنکھوں سے قانونی طور پر نابینا ہیں۔

انہوں نے 15 برس کی عمر میں نوجوان خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام شروع کیا۔ 2003 میں محض 26 برس کی عمر میں انہیں سماجی خدمات کے اعتراف میں باوقار میک آرتھر فیلوشپ سے نوازا گیا۔ انہوں نے ملز کالج سے پبلک پالیسی میں گریجویشن اور یونیورسٹی آف سان فرانسسکو سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔
سائمن 2016 میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن مقرر ہوئیں اور اسی سال بے ایریا ریپڈ ٹرانزٹ کے بورڈ میں بھی منتخب ہوئیں۔ 2020 میں وہ اس ادارے کی سربراہ بنیں۔
انہوں نے 2024 میں کانگریس کا انتخاب جیتا اور جنوری 2025 میں عہدہ سنبھالا۔ کانگریس میں انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کی ڈپٹی وہپ برائے پالیسی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔
فلسطین اور غزہ پر واضح موقف
لطیفہ سائمن غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور اسرائیل کے لیے امریکی عسکری و مالی امداد پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ وہ فلسطینی شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی اور شہری ہلاکتوں کے خاتمے کی حامی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ صحت، تعلیم، روزگار اور مزدوروں کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
دونوں خواتین کی کامیابی امریکی سیاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پوزیشن کے لیے اہم ہے جبکہ لیٹیفہ سائمن کا انتخاب مسلم خواتین اور معذور افراد کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








