لاپتہ بلوچ طلباء اور عدالتی حکم

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

لاپتہ افراد بالخصوص بلوچوں کا معاملہ پاکستان میں کوئی نیا نہیں ہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بلوچ طلباء کی گمشدگی سے متعلق حالیہ تحریری حکم نامہ ایک بار پھر ایک تلخ حقیقت کو سامنے لایا ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نسلی پروفائلنگ اور جبری گمشدگی کا سامنا کرنے والے 69 بلوچ طلباء کے بارے میں عدالت کا بیان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سنگین خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اہم انکشاف ایک سنگین مسئلہ کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ متعدد سماعتوں اور کمیشن کے قیام کے باوجود 50 طلباء اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہ بات انتہائی پریشان کن ہے کہ ان کوششوں کے باوجود ان طلباء کی قسمت غیر یقینی ہے، جس سے ایسے نازک معاملات کو حل کرنے میں حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی جانب سے عدالت کی جانب سے 21 سماعتوں کے بعد خاطر خواہ کارروائی نہ کرنے پر تنقید ایک پریشان کن رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹھوس پیش رفت کا یہ فقدان نہ صرف عدالتی عمل کو متاثر کرتا ہے بلکہ حکام پر شہریوں کا اعتماد بھی کم کرتا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں، جہاں عدلیہ اکثر مظلوموں کی آخری امید ہوتی ہے، عدالت بجا طور پر اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدام کی فوری ضرورت پر زور دیتی ہے۔

بنچ کا یہ مشاہدہ کہ وفاقی حکومت نے اس معاملے کو غیر سنجیدہ لیا ہے، شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اس کے عزم پر اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ وزیر اعظم، وزراء اور سیکرٹریز کو طلب کرنے کا فیصلہ عدالت کے اقتدار میں رہنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، ان اہم خدشات کو دور کرنے کے لیے شفاف اور فعال اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔

یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ نگران وزیراعظم اور نگراں وزیر داخلہ بلوچستان سے تعلق رکھنے کے باوجود اس معاملے کو اہمیت نہیں دی جا رہی جس سے معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔