ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل نے قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق مبینہ متنازع بیانات کے خلاف دائر درخواست پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو 28 جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔
یہ درخواست سینئر وکیل منظور قادر کی جانب سے دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے رواں ماہ قصور میں ہونے والے ایک عوامی اجتماع کے دوران ایسے بیانات دئیے جو قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
قصور میں خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں ریاستی رٹ کمزور ہو چکی ہے جبکہ پشتون علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران جانی نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے حالات کو انتہائی خراب قرار دیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ شہریوں سے ہتھیار اٹھانے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی اس مقصد کے لیے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی اس لیے وہ کوئی نجی فورس بنانے کے حق میں نہیں۔
سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ شہادتوں کا ذکر کیا جاتا ہے تاہم وردی پہننے والے اہلکار ملک کے دفاع کی ذمہ داری نبھاتے ہیں اور اس کے لیے انہیں معاوضہ بھی ملتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے فوج کے مبینہ سیاسی کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سیاست کرنا چاہتا ہے تو وردی اتار کر انتخابی میدان میں آئے۔ ان کے مطابق عوامی فیصلے ووٹ کے ذریعے ہونے چاہئیں اور سیاسی معاملات کا اختیار منتخب نمائندوں کے پاس ہونا چاہیے۔
ان بیانات پر حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں احسن اقبال اور عطا تارڑ نے ان خیالات کو شہدا اور ان کے اہلخانہ کی توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی جوانوں کی قربانیاں صرف ملازمت کا حصہ نہیں بلکہ حب الوطنی اور ملک کے دفاع کے جذبے سے جڑی ہیں۔
یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر گیا، جہاں ملک بھر کے مختلف سیاسی رہنماؤں نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے بیان پر اعتراضات اٹھائے۔ پنجاب اسمبلی میں عید پاکستان پارٹی کی جانب سے ایک قرارداد بھی پیش کی گئی جس میں مولانا فضل الرحمان کے بیانات کو اشتعال انگیز اور قومی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کے اداروں پر اس نوعیت کی تنقید افسوسناک ہے اور اس سے دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس میں ریاستی اداروں کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
عدالت نے درخواست پر سماعت کے لیے معاملہ رواں ماہ کے آخر میں مقرر کیا ہے جبکہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو اب باضابطہ طور پر عدالت میں پیش ہونے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








