پاکستان میں بھارتی سکھوں کا داخلہ مکمل بند کیا جائے مگر کیوں؟ جانیں معاملہ ہے کیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

بھارتی ریاست پنجاب کے گرداسپور اور آس پاس کے علاقوں میں انتہا پسند نِہنگ سکھ سلوندر سنگھ اور اس کے ساتھی مسلمان تاجروں کو حلال کھانے کی فروخت پر دھمکیاں دے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں یہ لوگ مسلمانوں کی دکانوں پر پہنچ کر احتجاج کرتے اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتے نظر آتے ہیں۔

الکرم چکن پوائنٹ، شامہ چکن بریانی اور زائقہ چکن پوائنٹ سمیت کئی مسلمانوں کی دکانوں پر یہ گروہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمان اکثریتی علاقہ نہیں ہے، حلال کھانا سکھ اور ہندو مذہب میں ممنوع ہے اور دکانوں کو حلال فوڈ کا بورڈ لگانے کا حکم دیا۔انہوں نے دکانداروں پر مذہب بگاڑنے کا الزام بھی لگایا۔

یہ رویہ انتہا پسند ہندو تنظیموں جیسا ہے جو اکثر حلال فوڈ اور مسلمانوں کے کاروبار کے خلاف مہم چلاتے ہیں۔ اب کچھ انتہا پسند سکھ بھی اسی فرقہ وارانہ سیاست کا حصہ بنتے نظر آ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سخت ردعمل

ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید ہوئی۔ صارفین نے لکھاکہ اگر تمہارے مذہب میں حلال کھانا منع ہے تو دوسری دکان سے خرید لو، مسلمانوں کی دکان پر جا کر دھمکی دینا کیا مطلب؟

ایک صارف نے لکھا کہ کینیڈا میں سکھ افراد خود حلال ریستورانوں میں کام کرتے اور حلال کھانا کھاتے ہیں تو پھر بھارت میں یہ ڈرامہ کیوں؟

کچھ صارفین نے اس رویے کو پنجاب سے باہر والوں کے خلاف نفرت سے بھی جوڑا جبکہ کئی لوگوں نے پاکستان کی فراخدلی کا ذکر بھی کیا کہ پاکستان ہر سال ہزاروں بھارتی سکھوں کو مذہبی یاترا کے لیے بغیر ویزا اپنے ملک آنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ کچھ انتہا پسند عناصر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بدمعاشی کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان سے مطالبہ

سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ایسے انتہا پسند سکھ عناصر کی پاکستان آمد پر پابندی عائد کرے۔ جب تک بھارتی پنجاب میں مسلمان تاجروں کو دھمکیاں دی جاتی رہیں گی، تب تک مذہبی یاترا کی سہولت کو نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی فراخدلی کا جواب اس طرح کی بدمعاشی سے نہیں دیا جا سکتا۔

Related Posts