پشاور کے نواحی علاقے شیخان میں انسانیت کو لرزا دینے والا ایک روح فرسا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک ملزم طویل عرصے سے مقامی قبرستان میں کمسن بچیوں کی قبروں کی بے حرمتی کا مکروہ فعل انجام دے رہا تھا۔ اس دلخراش واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد سے علاقہ مکینوں اور سوشل میڈیا صارفین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق ایک شخص گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے شیخان کے قبرستان میں کمسن بچیوں کی قبریں کھود کر ان کی نعشیں نکالتا رہا۔ آج صبح جب وہ ایک قبر کھود کر بچی کی لاش نکال رہا تھا تو علاقہ کے لوگوں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور شیخان چوکی پولیس کے حوالے کر دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور پوسٹس میں مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ ملزم صرف قبریں نہیں کھودتا تھا بلکہ مردہ بچیوں کی لاشوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کرتا تھا۔ لوگوں نے اسے سنگین اخلاقی اور مذہبی جرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
#پشاور کے علاقہ شیخان میں مقامی لوگوں نے بچیوں کو قبروں سے نکالنے والے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ملزم افغانی ہے اور شیخان چوکی پولیس نے ملزم کو تھانہ بڈھ بیر منتقل کر دیا۔
قبر سے نکالی گئی بچی کی لاش ۔۔۔میں نے مارا ہوتا اسکو نشان عبرت کر دیتا۔ pic.twitter.com/4aciSxw6oR— ZaraK Khan 🇵🇰 (@WaleedZarak) September 21, 2026
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سلمان کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔ اسے شیخان چوکی سے تھانہ بڈھ بیر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے کی ویڈیوز تیزی سے پھیلنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ صارفین قبرستان جیسے مقدس مقام پر اس طرح کی سفاکانہ حرکت کو ناقابلِ برداشت قرار دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس کیس میں زیرو ٹالرنس ہونی چاہیے۔
لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ملزم کے خلاف شفاف اور سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے، اس بات کی مکمل تحقیقات ہو کہ آیا وہ اکیلے تھا یا کوئی گروہ ملوث ہے جبکہ قبرستانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے
یہ واقعہ نہ صرف انسانی حیثیت کے خلاف سنگین جرم ہے بلکہ مذہبی اور اخلاقی اقدار کی بھی شدید خلاف ورزی ہے۔ پولیس سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس کیس کو حساس انداز میں نمٹاتے ہوئے سخت کارروائی کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








