آزاد کشمیر میں انتخابی ڈیوٹی کے لیے پنجاب کے ضلع کوٹ ادو سے آنے والے 8 پولیس اہلکاروں کے مبینہ اغوا کی اطلاع نے تشویش پیدا کردی ہے۔ لاپتا اہلکاروں میں ایک ڈرائیور بھی شامل ہے جبکہ واقعے پر پولیس اور جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی کی جانب سے متضاد موقف سامنے آنے کے بعد معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
کشمیر کے ایس ایس پی خاور علی شوکت نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مذکورہ پولیس اہلکار راولا کوٹ کی جانب سفر کر رہے تھے کہ راستے میں انہیں روک لیا گیا۔ ایس ایس پی کے دعوے کے مطابق کالعدم جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی کے ارکان نے اہلکاروں کو مبینہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیا جبکہ ان پر تشدد کیے جانے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔
پولیس کے مطابق مبینہ طور پر لاپتا ہونے والے اہلکاروں میں امان اللہ، حفیظ امجد، سید نعیم عباس، شفیق کھنڈ، محمد محسن، سلطان اور ندیم احمد شامل ہیں جبکہ انکے ساتھ موجود ڈرائیور کی شناخت شیخ علی کے نام سے ہوئی ہے۔
دوسری جانب جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں پولیس کے موقف کی تردید کردی۔ کمیٹی نے اہلکاروں کے اغوا یا انہیں اپنی تحویل میں رکھنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ پولیس اہلکار اس کے پاس موجود نہیں ہیں۔
پولیس اور کمیٹی کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آنے کے بعد واقعے کی اصل صورتحال جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مبینہ طور پر لاپتا ہونے والے پولیس اہلکار پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں تونسہ بیراج اور ریاض آباد چیک پوسٹوں پر تعینات تھے اور انتخابی ذمہ داریوں کے سلسلے میں آزاد کشمیر پہنچے تھے۔
دوسری طرف لاپتا اہلکاروں کے اہلخانہ شدید اضطراب میں مبتلا ہیں۔اہلخانہ نے متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ پولیس اہلکاروں کا فوری طور پر سراغ لگایا جائے اور انہیں بحفاظت واپس لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے جڑے حالات و واقعات کی مکمل تصدیق کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات اور معلومات اکٹھی کرنے کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق مبینہ طور پر لاپتا اہلکاروں کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








