بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ادائیگی کا نیا طریقہ! رقم میں کٹوتی کا مسئلہ حل ہوگا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

 حکومت کی جانب سے مستحق خواتین کے لیے مالی امداد کے حصول کو شفاف اور آسان بنانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نظام میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے تحت اب رقوم کی ترسیل کے نئے اور جدید طریقہ کار کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بی آئی ایس پی کی ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عصمت نواز کے مطابق ملک کے تمام حصوں میں بینک برانچز کی ہر وقت دستیابی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے بینیفشریز کو ادائیگیاں متعلقہ بینکوں کے مجاز ایجنٹس کے ذریعے جاری رکھی جائیں گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تمام بینک باضابطہ طور پر بی آئی ایس پی کو جواب دہ ہیں جبکہ تمام ایجنٹس اپنے متعلقہ بینکوں کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔

اس کے علاوہ انٹر آپریبلٹی (Interoperability) کے جدید فیچر کے تحت اب مستحق خواتین کسی بھی دن، کسی بھی وقت اور ملک کے کسی بھی بینک سے اپنی مالی امداد باآسانی وصول کر سکیں گی جس سے رقوم کی کٹوتی جیسی شکایات کا بھی خاتمہ ہوگا۔

ہر سہ ماہی میں کتنی رقم دی جاتی ہے؟

حکام کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تمام رجسٹرڈ اور مستحق خاندانوں کو ہر تین ماہ بعد 14,500 روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے۔ اس امدادی رقم کا بنیادی مقصد مہنگائی کے اس دور میں غریب اور کم آمدنی والے گھرانوں کو معاشی سہارا فراہم کرنا اور ان کی مشکلات کو کم کرنا ہے۔

ڈیجیٹل والٹ کے لیے اسمارٹ فون کی قید ختم

پروگرام کے نئے نظام کے حوالے سے ایک اور بڑی سہولت یہ متعارف کرائی گئی ہے کہ ڈیجیٹل والٹ استعمال کرنے یا اسے کھلوانے کے لیے اسمارٹ فون کا ہونا ہرگز لازمی نہیں۔ مستحق خواتین اپنے عام اور سادہ کی پیڈ والے موبائل فونز کے ذریعے بھی اس جدید سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گی۔

واضح رہے کہ سال 2008 میں شروع ہونے والے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ بہتری لائی گئی ہے اور حالیہ ڈیجیٹل والٹ کا اجرا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ نیا ‘سوشل پروٹیکشن والٹ’ خصوصی طور پر بی آئی ایس پی کی مستحق خواتین کے لیے ہی مختص کیا گیا ہے تاکہ وہ بغیر کسی دشواری کے اپنی رقم حاصل کر سکیں۔

Related Posts