کراچی پولیس نے یوم آزادی کے موقع پر مختلف علاقوں میں ہونے والی ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 31 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد مبینہ طور پر جشن کے دوران فائرنگ میں ملوث تھے جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے ہوائی فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔ گرفتاریاں گلشن اقبال، شاہراہ فیصل، سچل، ناظم آباد، گلستان جوہر، سائٹ سپر ہائی وے، کورنگی، گلبرگ، رضویہ اور شہر کے دیگر علاقوں میں کی گئیں۔
یہ کارروائیاں 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب یوم آزادی کی تقریبات کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہوائی فائرنگ کے بعد عمل میں لائی گئی ہیں۔ پاکستان میں نئے سال اور یوم آزادی جیسے مواقع پر خوشی کے اظہار کے لیے فائرنگ کا خطرناک رجحان عرصے سے ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔
اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لیاری، صدر، کورنگی، ملیر، عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گلبرگ، گلشن اقبال، اورنگی ٹاؤن، جمشید کوارٹر اور ڈیفنس سمیت کئی علاقوں میں نامعلوم سمتوں سے آنے والی گولیوں نے شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان واقعات میں کم از کم ایک خاتون جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال اور عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر ریسکیو حکام نے زخمیوں کی تعداد 85 بتائی تھی، تاہم پولیس نے جمعرات کو جاری تفصیلات میں کہا کہ شہر بھر میں ہوائی فائرنگ کے واقعات کے نتیجے میں تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے۔
گرفتار کیے جانے والے افراد میں اس سے قبل گلشن اقبال سے پکڑا گیا ایک سیکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے، جسے پولیس نے مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے حراست میں لیا تھا۔ حکام کے مطابق اس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔
ادھر پاپوش نگر میں بھی فائرنگ کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں پولیس کے مطابق ہوٹل کے اندر میز پر پستول رکھتے ہوئے اچانک گولی چل گئی، جس کی زد میں آکر ایک خاتون جاں بحق ہوگئی۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں خاتون کے کزن عمران کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ہوائی فائرنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی۔ گرفتار کیے گئے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید کارروائی بھی جاری رہے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








