کراچی میں آزادی کا جشن خونی ہوگیا! ہوائی فائرنگ سے خاتون جاں بحق، 85 افراد زخمی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب یوم آزادی کی تقریبات کے دوران مختلف علاقوں میں ہونے والی اندھا دھند ہوائی فائرنگ نے ایک خاتون کی جان لے لی جبکہ خواتین اور بچوں سمیت مزید 85 افراد گولیوں کی زد میں آکر زخمی ہوگئے۔

پاکستان میں نئے سال کی آمد اور یوم آزادی جیسے مواقع پر ہوائی فائرنگ کا خطرناک رجحان ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے جس نے ایک بار پھر کراچی میں جشن کا رنگ پھیکا کردیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں نامعلوم سمتوں سے چلائی گئی گولیوں کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔

ریسکیو اور پولیس حکام کے مطابق ہوائی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی)، ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی اور عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق ہوائی فائرنگ کے واقعات لیاری، صدر، کورنگی، ملیر، عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گلبرگ، گلشن اقبال، اورنگی ٹاؤن، جمشید کوارٹر اور ڈیفنس سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں رپورٹ ہوئے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہوائی فائرنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گلشن اقبال میں بھی ایک سیکیورٹی گارڈ کو ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

دریں اثنا، پاپوش نگر میں ایک الگ واقعے کے دوران ہوٹل کے اندر گولی لگنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی۔

پولیس کے مطابق خاتون کو حادثاتی طور پر گولی لگی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ہوٹل کی میز پر پستول رکھتے ہوئے اچانک فائر ہوگیا اور گولی خاتون کو جا لگی۔ پولیس نے خاتون کے کزن اور مقدمے میں نامزد ملزم عمران کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ کے واقعات کے مقدمات درج کرلیے گئے ہیں اور فائرنگ میں ملوث افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Related Posts